پاکستانی سرحد پر آٹھ ایرانی سرحدی محافظ ہلاک

ایران پاکستان پر مسلح گرہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب آٹھ ایرانی سرحدی محافظ مسلح افراد سے جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
اطلات کے مطابق ایرانی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے افراد پاکستان سے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں داخل ہوئے۔
ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے ہیں۔ حملہ آروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
خیا ل رہے کہ حالیہ برسوں میں سیستان بلوچستان کے صوبے میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی سمگلروں اور سنی باغی گروہوں سے کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق صوبے کے نائب گورنر علی اصغر میرشکری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مسلح دہشت گردوں نے ایران میں داخل ہو کر سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا۔
نائب گورنر علی اصغر میر شکری کا کہنا تھا کہ حملہ آور راکٹ لانچروں سمیت جدید اسلحے سے لیس تھے۔ انھوں نے پاکستان سے حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ایران کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واضع رہے کہ یہ حملہ سنہ 2013 میں سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے حملے جس میں 14 سرحدی محافظ مارے گئے تھے کے بعد سے صوبے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔