یمن کے تنازعے پر پالیسی سازی کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کے روز آغاز میں بدمزگی کا شکار رہا۔
حکمران جماعت مسلم لیگ کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا نعروں سے استقبال کیا اور سپیکر اور وزرا کے سمجھانے کے باوجود وہ مسلم تحریک انصاف کے خلاف جملے کستے اور طعنے دیتے رہے۔
ایسا لگا کہ جیسے مسلم لیگی ارکان اپنا سارا غصہ ایک ہی دن میں نکال دینے کے ارادے سے پارلیمنٹ ہاؤس آئے تھے۔
اس سے پہلے کہ سپیکر ایاز صادق اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کرتے، مسلم لیگی ارکان نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی سے شور مچا کر ایوان سے معافی مانگنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
اس شور شرابے اور پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج کے دوران بعض مسلم لیگی ارکان کچھ نازیبا اور غیر پارلیمانی نعرے بھی بلند کرتے رہے۔ ان کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کو جعلی اور ارکان کو چور اچکے کہنے پر معافی مانگے۔
ابتدائی طور پر مسلم لیگی ارکان نے کورس کے انداز میں جو نعرہ بلند کیا وہ تھا، ’معافی مانگو معافی‘۔ لیکن ماحول جوں جوں گرم ہوتا گیا اور نا صرف اس نعرے کے ساتھ کچھ نازیبا کلمات کا اضافہ ہوا بلکہ کچھ نئے نعرے بھی لگائے گئے۔ مسلم لیگی ارکان نے ’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘ کے نعرے بھی لگائے۔
ابتدا میں تو وفاقی وزرا خاموشی سے بیٹھے یہ سب دیکھتے رہے۔ بلکہ بعض کے چہرے سے تو یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس صورتحال کا مزا بھی لے رہے ہیں۔
پھر صدر مجلس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزرا کی توجہ اس جانب دلوائی اور انہیں اپنے ارکان کو خاموش کروانے کی ہدایت کی۔ لیکن حکمران جماعت کے ارکان کو خاموش کروانے کی تمام تدبیریں بے سود ثابت ہوئیں۔
نعرے لگتے رہے، ڈیسک بجتے رہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان عمران خان کی قیادت میں خاموشی سے یہ سب دیکھتے اور سہتے رہے۔
لیکن جب سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی دھمکی دی تو اس پر وزرا اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے مداخلت کر کے شور مچانے والے مسلم لیگی ارکان کو خاموش کروا دیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پچھلے سال دیے گئے احتجاجی دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان مسلسل یہ کہتے رہے کہ کیونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اس لیے منتخب ادارے جعلی ہیں اور اس میں بیٹھے ارکان کے بارے میں بھی وہ نامناسب زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی بنا پر عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے قومی اسمبلی سے استعفے بھی دے دیے تھے۔
پیر کو جب عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئے تو جمیعت علمائے اسلام کے مولانا امیر زمان نے نکتہ اٹھایا کہ یہ ارکان تو قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں لہٰذا وہ اس ایوان کے لیے اجنبی ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جو کہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، انہوں نے اس تنازعے کی وضاحت کرتے کہا کہ انہوں نے یہ استعفے منظور نہیں کیے تھے۔
’اسمبلی کے قواعد میں واضح لکھا ہے کہ میرے لیے ضروری ہے کہ میں یہ تصدیق کروں کہ یہ استعفے رضا کارانہ دیے گئے ہیں یا نہیں۔ چونکہ یہ ثابت نہیں ہوا اس لیے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے لہذٰا وہ قومی اسمبلی کے ارکان ہیں۔‘
پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس چند روز چلے گا لیکن لگتا ایسا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو اس انوکھے احتجاج کا سامنا اس سے زیادہ دن کرنا ہو گا۔
0 comments:
Post a Comment