Latest News

Showing posts with label Business. Show all posts
Showing posts with label Business. Show all posts
گلابی رکشہ
خواتین رکشتہ ڈرائیور کو یہ رکشے آسان قسطوں پر فراہم کرایں جائے گیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی سڑکوں پر ایسی رکشہ سروس شروع ہوئی ہے جس میں سفر کرنے والی اور اسے چلانے والی دونوں خواتین ہوتی ہیں۔
گلابی رنگ کا یہ رکشہ خاص طور پر خواتین کے لیے بنایا گیا ہے جس میں مردوں کو سفر کرنا ممنوع ہے۔
ابتدائی طور پر لاہور میں 25 گلابی رکشہ چلائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
خواتین کے لیے گلابی رکشہ متعارف کرانے والی زار اسلم کا کہنا ہے کہ یہ گلابی رکشہ اپنی نوعیت کا پہلا رکشہ ہے جسے صرف اور صرف خواتین ہی استعمال کریں گی۔
زارا اسلم نے بتایا کہ گلابی رکشہ چلانے کا خیال ان کو ان خواتین کو دیکھ کر آیا جن کو دفتر اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
کئی مرتبہ ان لڑکیوں کو مرد رکشہ ڈرائیور ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں عام رکشے میں اکیلے سفر کرنے گھبراتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے نئے رکشوں سے ان خواتین اور لڑکیوں کی زندگی آسان ہوگی جو اپنی ملازمت اور پڑھائی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استمعال کرتی ہیں۔
گلابی رکشہ
ان رکشوں کو خاتون ڈرائیور چلائیں گی
ملازمت کرنے والی خواتین اور تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں پانچ سے سات ہزار روپے ماہانہ کی بیناد پر رکشہ کی پک اینڈ ڈراپ سروس حاصل کرتی ہے۔
زارا اسلم کے مطابق گلابی رکشہ میں صرف خواتین اور لڑکیاں خواتین رکشہ ڈرائیوروں کو ہی ترجیح دیں گی۔
ان کے بقول اس منصوبے سے نہ صرف خواتین کو روزگار ملےگا بلکہ وہ اس کے ذریعے محفوظ سفر کر سکیں گی۔
گلابی یعنی رکشہ بنانے کے لیے ایک کمپنی سے معاہدہ کیا گيا ہے اور کمپنی ان کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے رکشے تیار کر رہی ہے۔
زارا اسلم کے بقول ان کے پنک رکشہ بالکل ایک منی کار جیسا ہے۔
گلابی رکشہ شہر میں چلنے والے دیگر رکشوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں دراوزے ہیں اور اس میں خاص طورپر خواتین کے لیے پنکھے لگوائے گئے ہیں۔
زارا اسلم نے بتایا کہ گلابی رکشوں کے لیے لاہور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں جس کے بعد ایل ٹی اے اپنی نوعیت کے اس منفرد رکشوں کو رجسٹر کر رہی ہے اور رکشہ چلانے والی خواتین کو مختلف نوعیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
گلابی
خواتین ڈرائیور کو یہ رکشے آسان قسطوں پر فراہم کرائے جائیں گے
انھوں نے مزید بتایا کہ گلابی رکشہ چلانے کی خواہش مند خواتین کو ملازمت دینے سے پہلے انٹرویو لیا جاتا ہے اور منتخب ہونے والی خواتین کو رکشہ چلانے اور اس کی مرمت کرنے کی ترتیب دی جاتی ہے جو 15 دنوں سے ایک ماہ تک محیط ہوتی ہے۔
خواتین رکشہ ڈرائیوروں کے پاس اگر ڈرائیونگ لائسنس نہیں تو انھیں لائسنس دلوائے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ خواتین ڈرائیورز کے لیے سروس کے شروع میں آسان سڑکوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور ساتھ ہی لاہور شہر کے مختلف شاہراروں کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔
رکشہ ڈرائیور خواتین کو آسان قسطوں میں گلابی رکشہ کی قیمت ادا کرنا ہوگی تاہم اس بات کی نگرانی کی جائے گی خواتین کے بدلے ان کے گھر کے مرد تو یہ رکشہ نہیں چلا رہے۔
زارا اسلم نے بتایا کہ ہر ماہ خواتین ڈرائیور سے ملاقات کی جائے گی تاکہ ان سے ان کے تجربہ پر تبادلہ خیال کیا جائےاور ان کو پیش آنے والی مشکلات کا حل نکلا جا سکے۔
ایڈمیرل ہیرس کے مطابق چین نے جنوبی چینی سمندر میں چار مربع کلومیٹر کی مصنوعی زمین تیار کر لی ہے
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ جنوبی چین کے سمندر میں چین کے دعوے کی وجہ سے ’ریت کی عظیم دیوار‘ بنتی جا رہی ہے۔
امریکہ کے پیسفک فلِیٹ کمانڈر ایڈمیرل ہیری ہیرس نے کہا کہ اس سے چین کی نیت پر ’سنگین سوالات‘ کھڑے ہوتے ہیں۔
انھوں نے یہ باتیں آسٹریلیا میں منگل کی شب ایک تقریر کے دوران کہیں۔
خیال رہے کہ چین ساؤتھ چائنا سی میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ متنازع دعویٰ پیش کرتا ہے۔
متنازع سمندر کی زمین کو وہ پھر سے حاصل کررہا جیسا کہ اس نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ایسا کرنے میں وہ ’حق بہ جانب‘ ہے کیونکہ اس علاقے پر اس کی ’خود مختاری‘ ہے۔
حالیہ مہینوں کے دوران سپریٹلی جزائر میں ریتیلی چٹانوں پر مصنوعی جزائر بنانے کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن کا استعمال بہت حد تک عسکری مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
ان تعمیرات میں طیاروں کے لیے ایک ہوائی پٹی بھی بنائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا: چین ڈریجز اور بلڈوزروں سے ریت کی ایک عظیم دیوار تیار کر رہا ہے
خیال رہے کہ ویت نام، فلپائن، اور تائیوان سمیت کئی ممالک سپریٹلی جزائر پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں۔
ایڈمیرل ہیرس نے چین کے زمین حاصل کرنے کو ایسا قدم قرار دیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہ ہو۔
انھوں نے کہا: ’چین مونگوں کی زندہ چٹانوں پر ریت ڈال کر مصنوعی زمین تیار کر رہا ہے۔ ان میں سے بعض پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جن کو کنکریٹ سے ہموار کیا جا رہا ہے۔ چین نے زمین پر تقریباً چار مربع کلو میٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کرلیا ہے۔‘
ایڈمیرل ہیرس نے مزید کہا: ’چین ڈریجز (سمندر میں صفائی کرنے والی مشینوں) اور بلڈوزروں کی مدد سے کئی مہینوں سے ریت کی ایک عظیم دیوار کی تعمیر کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اشتعال انگیز طور پر جنوبی چینی سمندر میں چین اپنے چھوٹے پڑوسی دعویداروں کو نظر انداز کرکے جس طرح تعمیرات کے امکانات پیدا کر رہا ہے اس سے چین کی نیت پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔‘
حالیہ عرصے میں ساؤتھ چائنا سی کے علاقے پر تنازع میں شدت آئی ہے اور یہ علاقائی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔
فلپائن نے اقوام متحدہ کی عدالت میں شکایت درج کی ہے لیکن چین کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے میں شامل نہیں ہوگا۔
چین کے وزیرِخارجہ کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے یہ کارروائیاں اردگرد موجود جزیروں میں رہنے والوں کی معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے ہیں۔
راجیو گاندھی زولوجیکل پارک اور جنگلی حیاتیات کے تحقیقی مرکز میں دو شیر، دو چیتے اور بڑی تعداد میں مگر مچھ، ریچھ، سیار اور دیگر گوشت خور جانور ہیں
بھارتی ریاست مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد کرنے کے بعد سے چڑیا گھروں میں بند جانوروں کو مرغی اور بھینس کےگوشت پرگزارا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاہم اس تبدیلی سےان جانوروں پر مرتب ہونے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
اس کا کا آغاز ممبئی کے ’سنجے گاندھی نیشنل پارک‘ سے ہوا اور اب دیگر شہروں کے چڑیا گھروں میں بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔
پُونے کے ’راجیو گاندھی زولوجیکل پارک‘ اور جنگلی حیاتیات کے تحقیقی مرکز میں دو شیر، دو چیتے اور بڑی تعداد میں مگرمچھ، ریچھ اور دیگر گوشت خور جانور ہیں۔
چڑیا گھر کے ایس پی راجکمار جادھو نے بتایا کہ ’گائے کے گوشت پر پابندی ہے لیکن باقی جانوروں کے گوشت کی اجازت ہے۔ بِیف پر پابندی لگنے کے بعد ہم نے جانوروں کو بھینسوں کا گوشت دینا شروع کر دیا ہے۔‘
راجکمار کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے لیے سالانہ ٹینڈر نکالا جاتا ہے اس لیے ہم پر کوئی مالی فرق نہیں پڑا، لیکن چونکہ بھینس کا گوشت زیادہ مقدار میں دستیاب نہیں ہوتا اس لیے ہم اس میں چکن ملا کر انہیں کھلاتے ہیں۔‘
’اس پابندی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ گایوں کی غیر قانونی نقل و حمل کم ہوجائےگی‘
شعلہ پور شہر کے ’مہاتما گاندھی چڑیا گھر‘ میں گوشت خور جانوروں کو پہلے بیف دیا جا رہا تھا لیکن اب انھیں مرغی کا گوشت دیا جا رہا ہے۔ یہاں ایک شیر، چار چیتے اور 17 مگرمچھ ہیں۔
اورنگ آباد کے سدھارتھ چڑیاگھر کے انچارج ڈاکٹر بي ایس نائیكواڈے کے مطابق ’یہاں 24 گوشت خور جانور ہیں جن کے لیے ہر روز 165 سے 170 کلو بیف کی ضرورت پڑتی تھی۔‘
انھوں نے بتایا کہ اب بھینس کےگوشت کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کا خرچ دوگنا ہوگیا ہے۔
پُونے میں ’وائلڈ لائف ریسرچ اینڈ كنزرویشن سوسائٹی‘ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر جینت کلکرنی کا کہنا ہے کہ شیر جیسے جانوروں کو چکن کھلانے سے فوری طور پر تو نہیں لیکن دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کلکرنی کا کہنا تھا کہ پولٹری فارم میں ان پرندوں کو کافی مقدار میں اینٹی بائيوٹك ادویات دی جاتی ہیں جو انھیں کھانے والے جانوروں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ جنگلی جانوروں کے کھانے میں جو تنوع ہونا چاہئے وہ بھی اب نہیں رہےگا۔
پونے کے قریب مانکڈوہ گاؤں میں تیندوؤں کی نقل مکانی پر نظر رکھنے کے لیے ایک مرکز میں اس وقت 27 چیتے ہیں۔
اس مرکز کے سربراہ اور جانوروں سے متعلق ڈاکٹر اجے دیشمکھ کہتے ہیں کہ ’اب ہمیں بھینسوں کے گوشت سے گزارا کرنا پڑ رہا ہے لیکن بیف پر پابندی کے سبب بھینس کے گوشت کی قیمت بھی تقریبا دوگنا بڑھ گئی ہے۔‘
بڑے جانوروں کو گائے یا بھینس کے گوشت سے جو کیلشیئم اور فاسفورس کی بڑی مقدار ملتی ہے وہ چکن یا کسی پرندے کے گوشت سے نہیں مل سکتی
اجے دیشمکھ نے مزید بتایا کہ’دیہی علاقوں میں بھینس کا گوشت فروخت کرنے والے ٹھیکیدار بھی کم ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر دوسرے دن گوشت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔‘
ڈاکٹر دیشمکھ کہتے ہیں کہ چکن کا گوشت کھلانے سے جانوروں کی پرورش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ’بڑے جانوروں کو گائے یا بھینس کے گوشت سے جو کیلشیئم اور فاسفورس کی بڑی مقدار ملتی ہے وہ چکن یا کسی پرندے کے گوشت سے نہیں مل سکتی۔‘
تاہم پونے میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’پیپلز فار اینیملز‘ کے سربراہ منوج اوسوال کے کا کہنا ہے کہ چونکہ جانور جنگل میں ہر طرح کی مخلوق کو شکار کر کے کھاتے ہیں اس لیے ایک جانور کی بجائے دوسرے جانور کا گوشت دینے سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
رواں سال کے آغاز پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد زبردست قلت پیدا ہو گئی تھی جس سے شہریوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین سے چار روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد پیٹرول 74 روپے 29 پیسے میں فروخت ہو گا۔اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت 70 روپے 29 پیسے فی لیٹر تھی۔
منگل کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے مٹی کے تیل، ہائی اوکٹین، ڈیزل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہیں دی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 83 روپے 61 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہو گا۔
نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل، ہائی اوکٹین اور مٹی کا تیل کی قیمت پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے برقرار رکھی گئی ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مٹی کا تیل فی لیٹر 61 روپے 44 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل 57 روپے 94 پیسے اور ہائی اوکٹین (ایچ او بی سی) 80 روپے 31 پیسے میں فروخت ہو گا۔
بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔
پاکستان میں گذشتہ سال ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قتمتوں میں کمی ہوئی ہے اور پیٹرول 108 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 70 روپے فی لیٹر تک گر گیا۔
ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہونے کے بعد رواں سال جنوری میں پنجاب میں پیٹرول کی قلت ہو گئی تھی اور پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں کمی کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
مقامی سطح پر قمیمتوں میں کمی سے پیڑولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس کی آمدن میں بھی کمی ہوئی تھی جس کے بعد حکومت نے پیڑولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد تک کر دیا تھا۔
ماہر اقتصادیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ مارچ میں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مارچ میں بین الاقوامی مارکیت میں درحقیقت قیمتیں گری ہیں لیکن حکومت ٹیکسوں میں ہونے والے خسارہ کو قیمتیں بڑھا کر پورا کرنا چاہتی ہے۔‘
خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سیلز ٹیکس کی آمدن میں تقریباً 200 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور مالی سال کی آخری سہ ماہی میں حکومت کو آمدن بڑھانے کے لیے قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال جون سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں گرنا شروع ہوئی اور سال کے اختتام تک خام تیل کی قمیت میں تقریبا 30 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔لیکن مشرق وسطی میں غیر یقینی صورتحال اور خاص یمن میں کشیدگی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاو ہوا ہے۔
مونیکا لیونسكی نے ٹیکنالوجی کے بارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو ایک ہمدردانہ انٹرنیٹ کر ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 1998 میں مونیکا لیونسكی اور امریکی صدر بل کلنٹن کے معاشقے کی خبر دنیا میں پھیل گئی تھی۔
ٹیکنالوجی، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن (ٹیڈ) کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے لیونسكی نے بتایا کہ اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ انٹرنیٹ پر لوگوں کے منفی اور بد تہذیب رویے کا مرکز بنی۔
لیونسكی نے کہا کہ انٹرنیٹ کے استعمال نے ایک ایسے ماحول کو عام کر دیا ہے جہاں کوئی کسی کی توہین کر سکتا ہے اور وہ تاریخ کے پہلے ’سائبر بُلیئنگ‘ کے متاٰثرین میں شامل ہیں۔
لیونسكی کے اس پیغام اور ان کی تقریر کو کانفرنس میں بھرپور پذیرائی ملی۔ سنہ 2005 کے بعد یہ ان کا صرف دوسرا خطاب ہے۔ مزاحیہ انداز میں اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے لیونسكی نے کہا کہ شاید وہ دنیا میں واحد 40 سالہ خاتون ہیں جو اپنی 22 برس کی عمر کی جوانی کو یاد نہیں کرتیں۔
’22 سال کی عمر میں مجھے اپنے باس سے محبت ہو گئی اور 24 سال کی عمر میں میں نے اس کا انجام برداشت کیا‘۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے ان کی تذلیل میں کئی گُنا اضافہ ہوا۔
’1998 میں ایک معاشقے میں ملوث ہونے کے بعد میں ایک سیاسی، قانونی اور میڈیا طوفان کا مرکز بن گئی جس کی شاید کوئی مثال نہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سکینڈل آپ تک ڈیجیٹل انقلاب کے تعاون سے پہنچا ‘۔
اگرچہ 1998 میں سوشل میڈیا کا دور صحیح معنوں میں نہیں شروع ہوا تھا تاہم لونسکی کی تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگ گئیں اور اس سے سکینڈل تیزی سے پھیلنے لگا۔
’میں ایک خاموش اور نـجی زندگی جیتے جیتے اچانک پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ پوری دنیا میں میری تذلیل ہوئی، ایسا لگتا تھا کہ انٹرنیٹ کا یہ ہجوم مجھ پر پتھر پھینک رہا ہے۔‘
’مجھے طوائف، بازاری عورت، جیسے تمام القاب سے نوازا گیا، میں اپنی ساری عزت اور ساکھ کھو بیٹھی۔ 17 سال پہلے اس کا کوئی نام نہیں تھا لیکن اب اسے ’سائبر بلیئنگ کہتے ہیں۔‘
برطانیہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’چائلڈ لائن‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ گذشتہ سال سائبر بلیئنگ کے واقعات میں 87 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ہالینڈ کی ایک ایسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائبر بلیئنگ بچوں میں خود کشی کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے۔
لیونسكی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ نے لوگوں کی تذلیل کرنا ایک کاروبار بنا لیا ہے۔
’ہر کلک سے لوگوں کی تذلیل ہو رہی ہے اور ہر کلک پر لوگ پیسے بنا رہے ہیں۔‘
حال ہی میں اداکارہ جنیفر لارنس کی لیک ہونے والی برہنہ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان تصاویر کو عام کرنے والی ایک ویب سائٹ نے پچاس لاکھ سے زیادہ کلک حاصل کیے۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ نے لوگوں میں دوسروں کے درد اور اذیت کے احساس کو ختم کر دیا ہے ۔ لیونسكی نے کہا کہ وہ مستقبل میں سائبر بلیئنگ کے مسئلے پر آواز اٹھائیں گی اور وہ اسی وجہ سے اب عام لوگوں سے بات کر رہی ہیں۔
’میں اپنے ماضی کے بارے میں اب شرمندہ نہیں ہونا چاہتی اور اس سارے بیانیے کو تبدیل کرنا چاہتی ہوں۔ جو لوگ ایسی کسی چیز سے گذر رہے ہیں، میں ان لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ وقت بھی گذر جائے گا‘۔

اسلام آباد::نیپرا نے بجلی دو روپے آٹھ پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی سے آئندہ ماہ کے بلوں میں صارفین کو 12ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے لگے۔ نیپرا نے بجلی دو روپے آٹھ پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد میں ہوئی ۔ سی پی پی اے نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ جنوری کے لیے ریفرنس فیول لاگت 11روپے 36 پیسے فی یونٹ مقرر تھی جبکہ اصل لاگت نو روپے ستائیس پیسے فی یونٹ رہی ۔ فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پیداواری لاگت میں مجموعی طور پر چھبیس ارب روپے کی کمی ہوئی ۔ نیپرا حکام کے مطابق فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ریلیف عوام کو منتقل کرنے کیلئے جنوری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی دو روپے آٹھ پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ آئندہ ماہ کے بلوں میں صارفین کو مجموعی طور پر 12 ارب روپے کا ریلیف ملے گا ۔ کمی کا اطلاق ماہانہ 50یونٹ استعمال کرنے والےاور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔

اسلام آباد:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی چار روپے کمی کا امکان ہے ، اوگرانے سمری وزارت پڑولیم کو بھجوادی ۔تفصیلات کے مطابق پٹرول کی قیمت میں دو روپے 45پیسے ،ہائی اوکٹین 4روپے 50پیسے ،ہائی اسپیڈ ڈیزل 3روپے 10پیسے ،لائٹ ڈیزل 2دورپے 77پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں تین روپے تک کمی کا امکان ہے ۔اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے سمری وزارت پٹرولیم کو ارسال کر دی ہے ۔
’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری دنیا یہی چاہے گی۔ ہمارا چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات پر یہ تحفظات ہیں‘
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے متنبہ کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے سے خطے کے دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہونے کے بعد سعودی عرب بھی یہ حق مانگے گا اور دیگر ممالک بھی ایسا چاہیں گے۔
سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے کہا ’میں ہمیشہ سے یہ کہتا آ رہا ہوں کہ ان مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلتا ہے سعودی عرب بھی وہ مانگے گا۔ اگر ایران کو یورینیئم کی افژودگی کی اجازت مل جاتی ہے چاہے کسی بھی سطح کی ہو، صرف سعودی عرب ہی یہی اجازت اپنے لیے نہیں مانگے گا۔‘
’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری دنیا یہی چاہے گی۔ ہمارا چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات پر یہ تحفظات ہیں۔‘
واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے مارچ میں ایک معاہدہ ہونا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس کے بدلے میں ایران پر پابندیوں کو نرم کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس ماہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد خلیجی ممالک کے دورے پر گئے تھے۔ اس دورے پر ان کو خلیجی رہنماؤں نے کہا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار سے لیس ایران کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
ترکی الفیصل نے کہا ’ایران عرب دنیا کے مختلف حصوں میں ویسے ہی مسئلے پیدا کر رہا ہے چاہے وہ یمن ہو، شام، عراق، فلسھین یا بحرین ہو۔ اس لیے وقیع پیمانے پر تباہی کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری نہ کرنے کے خوف کے ختم ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں جو ایران سے مسائل ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔‘
سعودی عرب کو سب سے بڑی شکایت ایران کے حوالے سے جو ہے وہ ہے کہ ایران دولت اسلامیہ کے خلاف شیعہ ملیشیا کی مدد کر رہا ہے۔
ایران کا یہ کردار تکریت میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی نے شیعہ ملیشیا کی رہنمائی کی۔
شہزادہ ترکی الفیصل کہتے ہیں ’ایسا لگ رہا ہے کہ ایران عراق پر اپنے قبضے کو وسیع کر رہا ہے جو ہمیں قبول نہیں۔‘
واضح رہے کہ سعودی عرب امریکہ پر زور ڈالتا رہا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کرے جس پر امریکہ تیار نہیں ہے۔
اب امریکہ اور سعودی عرب میں طے پایا ہے کہ شامی باغیوں کو تربیت دی جائے۔ لیکن امریکہ کا اس کے پیچھے مقصد بشار الاسد کے خلاف لڑنا نہیں بلکہ شامی باغیوں کا دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنا ہے۔
اس حوالے شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا ہے ’میں سمجھتا ہوں کہ دولت اسلامیہ یا جس کو میں فحاش کہنا پسند کرتا ہوں سے لڑنا اسد سے لڑنا ہے۔ بشار الاسد نے جو اپنے لوگوں کے ساتھ رویہ رکھا اسی وجہ سے فحاش کو موقع ملا ۔۔۔ اسی لیے دشمن فحاش اور نشار الاسد دونوں ہی ہیں۔‘