Latest News

Showing posts with label Sports. Show all posts
Showing posts with label Sports. Show all posts
زمبابوے کی ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا
پاکستان میں چھ برس کے طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے سلسلے میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم دو ہفتے کے دورے پر لاہور پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
زمبابوے کی ٹیم کے کھلاڑی پیر کو رات گئے دبئی کے راستے لاہور پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے کرکٹ بورڈ اور پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔
مہمان ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق غیر ملکی ٹیم کی آمد کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد کا کہنا تھا کہ زمبابوے کی ٹیم کی پاکستان آمد خوش کن ہے اور وہ زمبابوے کی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ یہ دورہ ممکن ہوا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ زمبابوے کا دورہ دیگر انٹرنیشنل ٹیموں کو بھی پاکستان لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی کسی کرکٹ ٹیم کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد جہاں سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی وہیں دیگر ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔
چھ سال کے اس عرصے کے دوران پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز غیرملکی سرزمین پر کھیلنی پڑی تھیں۔

شاہد آفریدی کپتان

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کی قیادت شاہد آفریدی کریں گے۔
شیعب ملک، محمد سمیع اور عمر اکمل کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں سرفراز احمد، عماد وسیم، وہاب ریاض، مختار احمد، احمد شہزاد، محمد رضوان، نعمان انور، بلاول بھٹی، انور علی، محمد حفیظ اور عماد اعظم شامل ہیں۔
خیال رہے کہ زمبابوے کی ٹیم اپنے اِس حالیہ دورے میں دو ٹی 20 اور تین ایک روزہ میچ کھیلے گی۔
دورے کا آغاز 22 مئی کو ٹی 20 میچ سے ہوگا اور دوسرا ٹی 20 میچ 24 مئی کو کھیلا جائے گا جس کے بعد 26، 29 اور 31 مئی کو تین ون ڈے میچ منعقد ہوں گے۔
یہ تمام میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اگرچہ اس سیریز کو باقاعدہ سرکاری حیثیت دی ہے لیکن سکیورٹی کی صورتحال کو بنیاد پر بنا کر اپنے آفیشلز نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورے کے تناظر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور چھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عدیل اکرم نے بتایا کہ قذافی سٹیڈیم اور اس کےگردو نواح میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مسلسل گشت کیا جا رہا ہے جبکہ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی حکومت کی جانب سے فوری اِنخلا کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے اور اِس مقصد کے لیے ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی ریہرسل بھی کی گئی ہے۔
پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں
لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے آس پاس 100 سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سے 24 گھنٹے صورتحال کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین صرف دو دروازوں سے ہی سٹیڈیم کے اندر داخل ہو سکیں گے، جبکہ گاڑیوں کی پارکنگ کو بھی سٹیڈیم سے دور رکھا گیا ہے جہاں سے شائقین کو پیدل چل کر سٹیڈیم میں داخل ہونا ہوگا۔
لاہور میں پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں اور سٹیڈیم کے آس پاس تمام کاروباری مراکز اور ریستورانوں کو دو ہفتوں کےلیے بند کر دیاگیا ہے۔
سنیچر اور اتوار کے دن بھی پولیس کی ٹیموں نے فل ڈریس ریہرسل کی تھی جس میں ائیر پورٹ سے نجی ہوٹل اور پھر قذافی سٹیڈیم تک سفر کر کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔
ونود کامبلی نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بھارت کی نمائندگی کی ہے
بھارت کے سابق کرکٹر ونود کامبلی نے بھارتی ٹی وی پروگراموں میں سابق پاکستانی کرکٹروں کو شامل کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
اس کے ساتھ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سابق بھارتی کرکٹر اور مبصر نوجوت سنگھ سدھو کے بارے میں نازیبا زبان بھی استعمال کی ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کیا: ’پاکستانیوں کو ہر چینل میں لے کر آتے ہو۔ ارے ان سے کہو کہ ان کے چینلوں میں ہمیں گالیاں ملتی ہیں۔ ہائے ہائے پاکستان، زندہ باد ہندوستان۔‘
اسی قسم کے یکے بعد دیگرے اپنے کئی ٹویٹس کے سبب وہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
سدھو کے لیے غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کامبلی نے انھیں ’اپنی بک بک بند کرنے‘ کو کہا ہے۔
کامبلی اپنے بہت سے متنازع فیہ بیان کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں
اپنی ایک ٹویٹ میں کامبلی لکھتے ہیں: ’سدھو صرف شاعری میں مصروف ہے۔ تبصرہ کون کرے گا، میرا باپ۔ ہمت ہے تو سدھو کو بولو میرا سامنا کرے۔۔۔‘
انھوں نے یہ بھی لکھا: ’ابھی میں رمیز اور شعیب سے ناراض نہیں ہوں۔ آپ نے ان پاکستانیوں کو اپنایا ہے جو ہمیں گالی دے کر ہمیں سے پیسہ لیتے ہیں۔‘
ایسے ٹویٹس کے بعد کئی لوگ کامبلی کو ٹوئٹر پر ’بلانوش‘ اور ’نشے میں دھت‘ بتانے لگے۔
ونود کامبلی نے فلموں میں بھی قسمت آزمائی کی
مقامی شراب کی بوتلوں کی تصاویر کے ساتھ ٹوئٹر ہینڈلTimeSocial سے لکھا گیا: ’ونود کامبلی کے پینے کا پتہ چل گیا ہے۔‘
شوم لكھنپال rude4thought ہینڈل سے لکھتے ہیں: ’سمندر نمکین ہے کیونکہ ونود کامبلی اس میں روئے ہیں۔‘
ٹوئٹر ہینڈلVshalOvercome سے لکھا گیا: ’ونود کامبلی کا معمول: ڈرنك، ٹويٹ، رپيٹ۔‘
اپراجت اے پی شرما نےAppyOfficial سے لکھا: ’ونود کامبلی کی مشکل کیا ہے؟ شاید انھوں نے شراب پی اور ٹویٹ کرنے لگ گئے۔‘
نوجوت سنگھ سدھو آئی پی ایل میں مستقل کمنٹری کرتے آ رہے ہیں
دوسری جانب بعض افراد ونود کامبلی کی حمایت کر رہے ہیں۔
ٹوئیٹر ہینڈل mainbhiengineer سے لکھا گیا: ’جو کامبلی نے کہا، وہ ہر ہندوستانی ایک عرصے سے کہنا چاہتا ہے۔‘
اس کے ساتھ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کامبلی یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کسی نے ہیک کر لیا تھا۔
محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن گزشتہ برس نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران رپورٹ ہوا تھا
پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ اپنے بولنگ ایکشن کا دوبارہ تجزیہ کروانے کے لیے جلد بھارت کے شہر چنئی جائیں گے جہاں شری راماچندرا یونیورسٹی میں ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ پی سی بی کی درخواست پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے محمد حفیظ کے دوبارہ ٹیسٹ کروانے کے لیے نو اپریل کی تاریخ دی ہے۔
34 سالہ آف سپنر محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن گزشتہ برس نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران رپورٹ ہوا تھا جس نے پاکستان ٹیم کی عالمی کپ کی تیاریوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
محمد حفیظ نے دسمبر میں لفبرا یونیورسٹی سے اپنے بولنگ ایکشن کا بائیو میکنک تجزیہ کروایا تھا جس کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حفیظ سے قبل پاکستان کے ہی سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو بھی غیر قانونی قرار دے کر انھیں بولنگ کروانے سے روک دیا گیا تھا۔
تاہم رواں سال کے آغاز میں ہی سعید اجمل کو ان کے ایکشن کے کامیاب تجزیے کے بعد بولنگ کروانے کی اجازت مل گئی تھی جس کے بعد وہ اپریل میں پاکستان کے دورہ بنگلہ دیش کے لیے دستیاب ہیں۔
پاکستان دورہ بنگلہ دیش کے دوران دو ٹیسٹ میچز کے علاوہ تین ایک روزہ اور ایک ٹی ٹیونٹی میچ کھیلے گا۔
محمد حفیظ کو حال ہی میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں بطور بیٹسمین شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے انھیں واپس وطن بھیج دیا گیا۔
محمد حفیظ کو حال ہی میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں بطور بیٹسمین شامل کیا گیا تھا لیکن ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے انھیں واپس وطن بھیج دیا گیا
آل راؤنڈر حفیظ نے سابق پاکستانی آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات بھی حاصل کیں جس کے بعد رواں برس بھارت میں ہی ہوئے ایک غیر رسمی تجزیے کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کو درست قرار دیا گیا تھا۔
محمد حفیظ اب تک 43 ٹیسٹ 122 ایک روزہ اور 46 ٹی ٹوئنٹی وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان کی خواتین ٹیم کی جانب سے کھیلنے والی جویریہ ودود بھی محمد حفیظ کے ساتھ اپنے بولنگ ایکشن کے تجزیے کے لیے بھارت کے شہر چنئی جائیں گی۔
جویریہ ودوود کا بولنگ ایکشن سنہ دوہزار دس میں رپورٹ ہوا تھا۔ وہ اب تک 59 ایک روزہ اور 56 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکی ہیں۔
خیال رہے آئی سی سی نے گزشتہ سال غیر قانونی بولنگ ایکشن والے بولرز کے خلاف کریک ڈاؤن آغاز کیا تھا اور چھ مہینوں میں نو بولرز کو بولنگ کروانے سے روک دیا گیا تھا۔
ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ایکیویٹ لیمفوفا کےصرف پانچ فیصد مریض ایک سال کےعرصے تک جی پاتے ہیں: مارٹن کرو
کینسر کے موذی مرض میں مبتلا نیوزی لینڈ کے سابق کپتان مارٹن کرو نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ فائنل شاید ان کی زندگی کا آخری میچ ہوگا جسے وہ دیکھ پائیں گے۔
مارٹن کرو کینسر کے موذی مرض لیمفوما میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ انھیں جو مرض لاحق ہے اس کے صرف پانچ فیصد مریض ایک سال کے عرصے تک زندہ رہ پاتے ہیں۔
باون سالہ مارٹن کرو اتوار کے روز میلبرن کرکٹ گراونڈ پر موجود ہوں گے جہاں ان کے ہم وطن پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلیں گے۔
مارٹن کرو نے خود ورلڈ کپ کے اکیس میچوں میں 55 کی اوسط سے 880 رنز سکور کیے۔
مارٹن کرو نے کرک انفو کو بتایا کہ ’میری آگے کی قیمتی زندگی شاید مجھے کوئی اور میچ دیکھنے اور لطف اندوز ہونے کی عیاشی کا موقع فراہم نہ کرے۔ یہ بہت ممکن ہے اور میں اس حقیقت کے ساتھ بخوشی رہ سکتا ہوں۔‘
مارٹن کرو نے 1992 ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کی تھی اور ان کی ٹیم سیمی فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی تھی۔ مارٹن کرو نے ہمسٹرنگ ہونے کے باوجود نوے رنز سکور کیے تھے۔پاکستان نے نہ صرف نیوزی لینڈ کو ہرا دیا بلکہ انھوں نے فائنل میں انگلینڈ کو ہرا کر پہلی ورلڈ کپ جیت لیا تھا۔
مارٹن کرو نیوزی لینڈ کے دوسرے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں اور انھوں نے 45 کی اوسط سے 5444 رنز بنائے۔
نیوزی کی موجودہ ٹیم میں دو ایسے کھلاڑی بھی ہیں جن کی کامیابی میں مارٹن کرو کا بھی ہاتھ ہے۔ مارٹن گپٹل اور راس ٹیلر وہ کھلاڑی ہیں جن پر مارٹن کرو نے بہت محنت کی ہے۔ یہ وہی مارٹن گپٹل ہیں جنہوں نے رواں ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقابل فراموش ناٹ آؤٹ ڈبل سنچری سکور کی تھی۔
ان دونوں کھلاڑیوں کی موجودہ فارم نے مارٹن کرو کو موذی مرض سے لڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔
’ان دو بیٹوں جنہیں میں نے پیدا نہیں کیا، راس ٹیلر اور مارٹن گپٹل کو سیاہ کٹ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میدان میں اترنے کا عمل دیکھنا میرے لیے بہت اطمینان کا باعث ہو گا۔میں سارا دن اپنے آنسوؤں کو روکے رکھوں گا۔ میری حالت نروس والدین کی طرح کی ہو گی۔‘
مارٹن کرو کا شمار اپنے عہد کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا تھا
’اگر نیوزی لینڈ جیت جاتا ہے تو پہلی مرتبہ ہوگا جب وہ ملک کی رگبی ٹیم کے سایے سے باہر آئے گی۔ یہ اعزاز شاید ان کے پاس تھوڑا ہی عرصہ رہے کیونکہ آل بلیک ایک بار پھر ستمبر میں رگبی ورلڈ کپ کا دفاع کرنے کے لیے انگلینڈ روانہ ہو جائیں گے۔‘
دو سال قبل مارٹن کرو کو لیمفوفا کینسر میں مبتلا ہونے کا پتہ چلا۔علاج کے بعد ان کا مرض دب گیا تھا لیکن گزشتہ ستمبر وہ ایک بار نمودار ہوگیا اور اب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں۔ مارٹن کرو بتاتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ہے کہ ایکویٹ لیمفوفا کےصرف پانچ فیصد مریض ایک سال کے عرصے تک جی پاتے ہیں۔
مارٹن کرو نے دوسری بار لیمفوفا کے نمودار ہونے کے بعد کیموتھراپی علاج سےانکار کیا ہے اورقدرتی طریقوں سے اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
India have done really well in the end to drag Australia back from the time they looked like getting anything upwards of 350-360. A sobering thought about the new fielding restrictions and the modern bats: despite an overall excellent display in the end, India still conceded 89 in the last 10
سڈنی میں بھارتی ٹیم کا ون ڈے ریکارڈ بہت خراب رہا ہے۔ اس نے 35 سال میں صرف ایک بار آسٹریلیا کو شکست دی ہے
عالمی بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل جمعرات کے روز سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔
یہ میچ جیتنے والی ٹیم 29 مارچ کو میلبرن میں ہونے والے فائنل میں نیوزی لینڈ کے مدمقابل ہوگی جس نے منگل کو آکلینڈ میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری اوور میں چار وکٹوں سے شکست دی۔
مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے اس عالمی کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک تمام سات میچز جیتے ہیں۔
بھارتی ٹیم اس عالمی کپ کی واحد ٹیم ہے جس نے ساتوں میچوں میں اپنی حریف ٹیموں کو آل آؤٹ کیا ہے۔
جن تین میچوں میں بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی ہے ان میں اس نے300 سے زائد کا سکور بھی بنایا ہے۔
بھارتی بیٹسمینوں میں شیکھر دھون دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 367 رنز کے ساتھ قابل ذکر ہیں جبکہ بولنگ میں شامی 17 یادو 14 اشون 12 اور موہیت شرما 11 وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔
بولنگ میں مچل سٹارک نے 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں
آسٹریلوی ٹیم نے اپنے پول میں چار میچ جیتے۔ وہ نیوزی لینڈ سے ایک وکٹ سے میچ ہاری جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف اس کا میچ بارش کی نذر ہوگیا۔
اس نے افغانستان کے خلاف 417 رنز کا سکور بنایا جو اس عالمی کپ کا اب تک سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف بھی اس نے300 سے زائد رنز سکور کیے۔
آسٹریلیا کی طرف سے ابتک بیٹنگ میں گلین میکسویل 301 رنز بنا کر نمایاں ہیں۔ بولنگ میں مچل سٹارک نے 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ مچل جانسن کی 10 وکٹیں ہیں۔
آسٹریلیا کی طرف سے ابتک بیٹنگ میں گلین میکسویل 301 رنز بنا کر نمایاں ہیں
ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دس میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں سات آسٹریلیا نے اور تین بھارت نے جیتے ہیں۔
گذشتہ عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کوارٹرفائنل میں مقابلہ ہوا تھا جس میں بھارت نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
سڈنی میں بھارتی ٹیم کا ون ڈے ریکارڈ بہت خراب رہا ہے۔ اس نے 35 سال میں صرف ایک بار آسٹریلیا کو شکست دی ہے جب 2008 میں سچن تندولکر کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت اس نے کامیابی حاصل کی تھی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان نے انتہائی طوفانی انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقی بولروں کے چھکے چھڑا دیے
کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں 43 اووروں میں 298 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ انداز میں اننگز کا آغاز کیا، تاہم اوپر تلے وکٹیں گرنے سے نیوزی لینڈ کو دھچکہ لگا ہے۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ نے اپنی اننگز کے اختتام پر 43 اووروں میں 281 رنز بنائے تھے، لیکن ڈک ورتھ لیوس سسٹم کے تحت نیوزی لینڈ کا ہدف 298 رنز مقرر کیا گیا۔
اس کے جواب میں اب سے تھوڑی دیر قبل تک نیوزی لینڈ نے 36 اووروں میں چار وکٹوں کے نقصان پر 243 رنز بنائے تھے۔ اس وقت گرانٹ ایلیٹ 52 رنز بنا کر وکٹ پر موجود ہیں، جب کہ ان کے ساتھی کوری اینڈرسن بھی 51 رنز بنا کر کھیل رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم نے انتہائی طوفانی اننگز کھیلتے ہوئے صرف 26 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔ انھوں نے ڈیل سٹین کے ایک اوور میں 25 رنز بنائے۔ انھیں ڈیل سٹین نے مورنے مورکل کی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔ ان کے بعد نیوزی لینڈ کے سب سے قابلِ اعتماد بیٹسمین کین ولیمسن صرف چھ رنز بنا کے مورکل ہی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔
مارٹن گپٹل نے 34 رنز بنا کر اننگز کو استحکام بخشنے کی کوشش کی لیکن وہ ایک تیز رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد راس ٹیلر ایک محتاط اننگز کھیلنے کے بعد 30 رنز بنا کر جے پی ڈمنی کی گیند پر وکٹ کیپر ڈی کوک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
ٹاس جیتنے کے بعد جنوبی افریقہ کی نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ جاری تھی کہ 38 اووروں کے اختتام پر بارش کے باعث کھیل روکنا دینا پڑا۔ وقت ضائع ہونے کے باعث کھانے کا وقفہ بھی مختصر کر کے دس منٹ کا کر دیا گیا۔
کھیل کے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق تین بولر زیادہ سے زیادہ نو اوور، جب کہ دو زیادہ سے زیادہ آٹھ اوور پھینک سکتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈیویلیئرز انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 65 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ کھیل کے اختتامی لمحات میں ڈیوڈ ملر نے تباہ کن بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 18 گیندوں پر 49 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ انھیں اینڈرسن نے آؤٹ کیا۔ جے پی ڈمنی چار گیندوں پر آٹھ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
بارش کے بعد کھیل جب دوبارہ شروع ہوا اس وقت جنوبی افریقہ کا سکور تین وکٹوں کے نقصان پر 216 رنز تھا، تاہم سکور میں صرف ایک رن کے اضافے کے فاف ڈوپلیسی 82 رنز بنا کر اینڈرسن کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس میچ میں نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ خاصی غیر معیاری رہی ہے اور انھوں نے کئی کیچ اور رن آؤٹ کے موقعے ضائع کیے ہیں۔ ولیمسن نے دو اووروں میں اے بی ڈیویلیئرز کو آؤٹ کرنے کے دو مواقع ضائع کیے۔
نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاشم آملا اور کوئنٹن ڈی کوک نے اننگز کا آغاز کیا اور 21 کے مجموعی سکور پر آملا بولٹ کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس وقت ان کا سکور دس رنز تھا جس میں دو چوکے شامل تھے۔
ہاشم آملہ کے آؤٹ ہونے کے بعد ابھی مجموعی سکور میں دس رنز کا اضافہ ہی ہوا تھا کہ ڈی کوک نے بولٹ کی گیند پر چھکا لگانے کی کوشش کی لیکن باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈوپلیسی اور رائلی روسو نے محتاط انداز میں بیٹنگ شروع کی اور سکور کو 114 تک پہنچا دیا مگر اس سکور پر روسو کوری اینڈرسن کی گیند پر مارٹن گپٹل کے ہاتھوں پوائنٹ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم کا مقابلہ فائنل میں آسٹریلیا یا بھارت سے ہو گا
دونوں ٹیموں نے اس سے پہلے کبھی ورلڈ کپ کا فائنل نہیں کھیلا ہے۔
سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم کا مقابلہ فائنل میں آسٹریلیا یا بھارت سے ہو گا۔
اس ورلڈ کپ میں آک لینڈ کے میدان میں جنوبی افریقہ کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ نیوزی لینڈ نے ایک دلچسپ میچ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔
بولٹ نے جنوبی افریقہ کے دونوں اوپنرز کو آؤٹ کیا
دونوں ٹیموں نے ایک ایک تبدیلی کی ہے۔ نیوزی لینڈ نے انجری کے سبب ورلڈ کپ سے باہر ہونے والے فاسٹ بولر ایڈم ملن کی جگہ میٹ ہنری کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے کیل ایبٹ کی جگہ ورنن فلینڈر کو ترجیح دی ہے۔
کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو143 رنز سے شکست دی تھی جبکہ جنوبی افریقہ نے سری لنکا کو ایک یک طرفہ مقابلے کے بعد نو وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی تھی۔
آک لینڈ میں سیمی فائنل سے پہلے تین میچ کھیلے گئے ہیں۔ بھارت نے زمبابوے کو شکست دی جبکہ پاکستان نے بارش سے متاثرہ میچ میں جنوبی افریقہ کو شکست دی۔ تیسرے میچ نیوزی لینڈ نے ایک دلچسپ میچ میں آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے ہرایا تھا۔
لارا کا کہنہ ہے کہ وہاب ریاض کو ملنے کے لیے بے تاب ہیں
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان اور مایہ ناز بیٹسمین برائن لارا نے کہا ہے کہ وہ وہاب ریاض کو ہونے والا جرمانہ دینے کو تیار ہیں۔
بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برائن لارا کا کہنا تھا کہ کواٹر فائنل میں وہاب ریاض نے شین واٹسن کو جس جارحانہ انداز میں بولنگ کی وہ قابلِ دید تھا اس پر آئی سی سی کی جانب سے جرمانہ کرنا ایک مضحکہ خیز اقدام ہے۔
وہاب ریاض کی بولنگ کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کواٹر فائنل میں ان کی بولنگ اب تک ورلڈ کپ کی سب بہترین بولنگ ہے اور ان سمیت دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین اس سے بھرپور انذاز میں لطف اندوز ہوئے ہیں۔
’وہاب کی بولنگ کے سامنے ایسا لگ رہا تھا کے واٹسن سکول کے بچے ہیں، یہ حیرت انگیز کرکٹ تھی۔‘
لارا کا مزید کہنا تھا کہ وہ وہاب ریاض کو ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایڈلیڈ میں کھیلے جانے والے تیسرے کواٹرفائنل میں وہاب ریاض نے شین واٹسن کو جارحانہ انداز میں بولنگ کروائی تھی جس میں انھوں نے شارٹ پیچ گیندیں اور باونسر بھی کروائے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان جملوں اور اشاروں کا تبادلہ بھی ہواتھا۔
میچ کے بعد آئی سی سی نے وہاب ریاض پر میچ فیس کا 50 فیصد اور شین واٹسن پر 15 فیصد جرمانہ کیا تھا۔
کواٹر فائنل میں وہاب ریاض نے 54 رنزکے عوض 2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا تھا۔
بولٹ اب 19 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔
کرکٹ ورلڈ کپ کے چوتھے اور آخری کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو 143 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ناک آؤٹ مرحلے میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح ہے۔
سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 24 مارچ کو آک لینڈ میں جنوبی افریقہ کا سامنا کرے گی۔
ویلنگٹن میں سنیچر کو کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے مارٹن گپتل کی ڈبل سنچری کی بدولت ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 394 رنز کا ہدف دیا تاہم ویسٹ انڈین ٹیم 30ویں اوورز میں 250 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے کرس گیل نے نصف سنچری بنائی اور 33 گیندوں پر 61 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
انھوں نے اس اننگز میں جارحانہ انداز اپنایا اور آٹھ چھکے لگائے جن میں ویٹوری کو ایک اوور میں لگاتار تین چھکے بھی شامل تھے۔
گیل اور سیموئلز نے جارحانہ انداز اپنایا لیکن اپنی ٹیم کو فتح کے قریب بھی نہ لے جا سکے
ان کے علاوہ جیسن ہولڈر اور مارون سیموئلز نے بھی مختصر مگر دھواں دھار اننگز کھیلیں۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔ وہ اب 19 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔
اس سے قبل ویلنگٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ اب تک عالمی کپ میں ناقابلِ شکست رہنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم کے لیے اچھا ثابت ہوا اور اس نے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں پر 393 رنز بنا ڈالے۔
نیوزی لینڈ کے اوپنر مارٹن گپتل نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبل سینچری مکمل کی اور 393 کے مجموعے میں ان کا حصہ 237 رنز رہا۔
گپتل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈبل سینچری بنائی اور ناقابلِ شکست رہے
انھوں نے یہ سکور 163 گیندوں پر 24 چوکوں اور 11 چھکوں کی مدد سے بنایا اور ناٹ آوٹ رہے۔
وہ نیوزی لینڈ کی جانب سے ایک روزہ کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بنے ہیں جبکہ 237 رنز بنا کر انھوں نے ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کا ورلڈ کپ مقابلوں میں سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
گیل نے اسی ورلڈ کپ میں 215 رنز بنا کر یہ ریکارڈ بنایا تھا۔
گپتل کے علاوہ دیگر بلے بازوں میں سے ٹیلر نے 42 اور ولیمسن نے 33 رنز کی قابلِ ذکر اننگز کھیلیں۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے آندرے رسل نے دو وکٹیں تو لیں لیکن دس اوورز میں 96 رنز بھی دے ڈالے۔
ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں گروپ میچز میں پوائنٹس ٹیبل پر نیوزی لینڈ نے چھ میں سے چھ میچ جیت کر 12 جبکہ ویسٹ انڈیز نے چھ پوائنٹس لیے تھے اور وہ پول بی میں آخری نمبر پر رہی تھی۔
کمر کی تکلیف کے باعث وقار یونس کو 199عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پڑا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس کے لیے یہ عالمی کپ بھی خوشگوار ثابت نہ ہو سکا۔
وقار یونس کو اس عالمی کپ سے قبل بھی اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ عالمی کپ انہیں کبھی راس نہیں آیا۔
وہ اس میگا ایونٹ کو یادگار بنانے کی شدید خواہش رکھتے تھے لیکن پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل سے آگے نہ بڑھ سکی۔
وقاریونس نے1989 ء میں ایک ایسے بولر کےطور پر بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا جس کی وجہ شہرت تیز رفتار سوئنگ بولنگ سے اسٹمپس کو اکھاڑ پھینکنے کے ساتھ ساتھ حریف بیٹسمینوں کے پیر زخمی کرنے کی تھی۔
وہ اپنی خطرناک یارکر کی وجہ سے ’ٹو کرشر‘ کے طور پر بیٹسمینوں کے لیے دہشت کی علامت تھے۔
لیکن ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنے عروج پر تھے اور وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی دنیا کے سب سے خطرناک بولنگ اٹیک کا روپ دھارچکی تھی وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے اور انہیں 1992 کے عالمی کپ میں شرکت سے محروم ہونا پڑا۔



1996 کے عالمی کپ میں وقاریونس کے لیے ابتدائی میچوں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا اور انہوں نے پانچ میچوں میں 11 وکٹیں حاصل کرلی تھیں۔
تاہم پھر بھارت کے خلاف بنگلور میں کوارٹر فائنل میچ ان کے لیے ناخوشگوار ثابت ہوا جس میں وہ اجے جدیجہ کی جارحانہ بیٹنگ کی زد میں آئے جنہوں نے ان کے نویں اوور میں 18 اور آخری اوور میں 22 رنز بناڈالے۔
وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے وقاریونس کو پہلی بار آخری اوورز میں دباؤ میں دیکھا تھا۔
1999 کے عالمی کپ سے بھی وقاریونس کی خوشگوار یادیں وابستہ نہیں ہیں۔
اگرچہ پاکستانی ٹیم اس ورلڈ کپ کا فائنل کھیلی لیکن وقاریونس کے لیے وہ صرف ایک میچ کا عالمی کپ ثابت ہوا۔
وہ جس واحد میچ میں کھیلے اسے یقیناً یاد نہیں رکھنا چاہیں گے کیونکہ وہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی تھی۔
یہ شکست جان بوجھ کر ہارنے کے الزامات کی وجہ سے متنازع بن گئی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی تحقیقات کے لیے ’بھنڈاری کمیشن‘ بنانا پڑا تھا۔
وقار یونس نے اس میچ میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے نو اوورز میں 36 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے باوجود وہ اگلے کسی بھی میچ کے لیے ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے۔


وقار یونس پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ بنے لیکن 2007 کے عالمی کپ سے قبل انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا

2003 کے عالمی کپ میں وقار یونس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے لیکن اس موقع پر اس طرح کی خبریں بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم اکرم کو کپتان بنانا چاہتا ہے جن کے بارے میں جسٹس قیوم رپورٹ میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ انہیں مستقبل میں کپتانی نہ دی جائے۔
پاکستانی ٹیم عالمی کپ میں آسٹریلیا انگلینڈ اور بھارت جیسی بڑی ٹیموں سے ہار کر گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی اور خود وقاریونس کی بولنگ بھی خاصی مایوس کن رہی۔
آسٹریلیا کے خلاف میچ میں انہیں امپائر ڈیوڈ شیپرڈ نے اینڈریو سائمنڈز کو بیمر کرانے کی پاداش میں بولنگ سے روک دیا۔
بھارت کے خلاف اہم میچ میں اگرچہ انہوں نے لگاتار گیندوں پر سہواگ اور گنگولی کو آؤٹ کردیا لیکن اس کے بعد وہ خاصے مہنگے ثابت ہوئے۔
اس عالمی کپ کے ساتھ ہی وقار یونس کا بین الاقوامی کریئر بھی اختتام کو پہنچا۔
2006 میں وہ پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ بنے لیکن 2007 کے عالمی کپ سے قبل انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا۔
وہ اس وقت کے کپتان انضمام الحق سے بھی سخت ناخوش تھے بقول ان کے انضمام الحق ان کی جگہ مشتاق احمد کو بولنگ کوچ بنانا چاہتے تھے۔
وقاریونس 2011 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے اور یہاں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچی جہاں اسے بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔