سری لنکا کو ساتویں اوور میں پہلی کامیابی مل گئی
11ویں کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے کوارٹر فائنل میچ میں سری لنکا کے خلاف 134 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی اننگز جاری ہے۔
اس وقت کریز پر کوئنٹن ڈی کاک اورفاف ڈوپلیسی موجود ہیں اور کھانے کے وقفے پر جنوبی افریقہ نے سات اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 40 رن بنا لیے ہیں۔
سڈنی میں بدھ کو کھیلے جانے والے میچ میں جنوبی افریقہ کی جانب سے ہاشم آملہ اور کوئنٹن ڈی کاک نے اننگز شروع کی اور ٹیم کو 40 رنز کا آغاز دیا۔
اس شراکت کو ملنگا نے آملہ کو آؤٹ کر کے توڑا جو 16 رنز بنا سکے۔
اس سے قبل اینجلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکن بلے باز جنوبی افریقی سپنرز کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔
سری لنکا کی پوری ٹیم 38ویں اوورز میں 133 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے جے پی ڈومینی نے ہیٹ ٹرک کی جبکہ عمران طاہر نے بھی چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ٹورنامنٹ میں لگاتار چار سنچریاں بنانے والے سری لنکا کے تجربہ کار بلے باز کمارا سنگاکارا نے اس میچ میں انتہائی سست روی سے بلے بازی کی اور 95 گیندوں میں 45 رنز بنا کر مورکل کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
ان کے علاوہ تھریمانے نے 41 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ بقیہ بلے بازوں میں سے آٹھ کا سکور دوہرے ہندسوں میں بھی نہ پہنچ سکا۔
سنگاکارا اور تھریمانے نے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے 15 اوورز میں 65 رنز کی شراکت قائم کی۔
جنوبی افریقہ کو کائل ایبٹ اور ڈیل سٹین نے ابتدائی کامیابی دلوائی جس کے بعد عمران طاہر نے سری لنکن بلے بازوں کو کھل کر نہ کھیلنے دیا اور تھریمانے، جیاودرھنے، پریرا اور ملنگا کی وکٹیں لے کر جنوبی افریقہ کی پوزیشن مضبوط بنا دی۔
دوسرے اینڈ سے پارٹ ٹائم سپنر جے پی ڈومینی نے عمدہ بولنگ کی جس کا صلہ انھیں ہیٹ ٹرک کی شکل میں ملا جو دو اوورز میں مکمل ہوئی۔
انھوں نے اپنے آٹھویں اوور کی آخری گیند پر سری لنکن کپتان میتھیوز کو آؤٹ کیا اور اگلے ہی اوور کی پہلی دو گیندوں پر نوان کولاسیکرا اور اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے تھرندو کوشل کو آؤٹ کر کے ہیٹ ٹرک مکمل کی۔
اس میچ کے لیے سری لنکن ٹیم نے نوآموز نوجوان سپنر تھرندو کوشل کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوشل کو ان کے بولنگ کے مخصوص انداز کی وجہ سے ’مرلی کی نقل‘ کہا جاتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے بھی آخری پول میچ کھیلنے والی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور جہاں فرحان بہاردین کی جگہ فاف ڈوپلیسی کی واپسی ہوئی ہے وہیں کائل ایبٹ بھی یہ میچ کھیل رہے ہیں۔
ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پول بی میں دوسرے اور سری لنکن ٹیم پول اے میں تیسرے نمبر پر رہی تھی۔
0 comments:
Post a Comment