Latest News



Tabdeeli Agaye?? Peshawar citizen repairing an electricity transformer on their own


Tabdeeli Agaye?? Peshawar citizen repairing an electricity transformer on their own

Urwa hoccan live performance in ary digital show watch and enjoy.

VJ Urwa Perfomance - ARY Film Awards. by news fews
Kareena Kapoor and Sonakshi Sinha might have posed together with a broad smile at the Star Guild Awards 2014 red carpet but their equations are not so good behind the curtains as Sonakshi Sinha's reaction on Kareena Kapoor's rude comments on Koffee With Karan Season 4 was like a one tight slap on Kareena's face.


OMG! Sonakshi Sinha Slaps Kareena Kapoor 
زمبابوے کی ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا
پاکستان میں چھ برس کے طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے سلسلے میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم دو ہفتے کے دورے پر لاہور پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
زمبابوے کی ٹیم کے کھلاڑی پیر کو رات گئے دبئی کے راستے لاہور پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے کرکٹ بورڈ اور پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔
مہمان ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق غیر ملکی ٹیم کی آمد کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد کا کہنا تھا کہ زمبابوے کی ٹیم کی پاکستان آمد خوش کن ہے اور وہ زمبابوے کی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ یہ دورہ ممکن ہوا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ زمبابوے کا دورہ دیگر انٹرنیشنل ٹیموں کو بھی پاکستان لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی کسی کرکٹ ٹیم کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد جہاں سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی وہیں دیگر ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔
چھ سال کے اس عرصے کے دوران پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز غیرملکی سرزمین پر کھیلنی پڑی تھیں۔

شاہد آفریدی کپتان

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کی قیادت شاہد آفریدی کریں گے۔
شیعب ملک، محمد سمیع اور عمر اکمل کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں سرفراز احمد، عماد وسیم، وہاب ریاض، مختار احمد، احمد شہزاد، محمد رضوان، نعمان انور، بلاول بھٹی، انور علی، محمد حفیظ اور عماد اعظم شامل ہیں۔
خیال رہے کہ زمبابوے کی ٹیم اپنے اِس حالیہ دورے میں دو ٹی 20 اور تین ایک روزہ میچ کھیلے گی۔
دورے کا آغاز 22 مئی کو ٹی 20 میچ سے ہوگا اور دوسرا ٹی 20 میچ 24 مئی کو کھیلا جائے گا جس کے بعد 26، 29 اور 31 مئی کو تین ون ڈے میچ منعقد ہوں گے۔
یہ تمام میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اگرچہ اس سیریز کو باقاعدہ سرکاری حیثیت دی ہے لیکن سکیورٹی کی صورتحال کو بنیاد پر بنا کر اپنے آفیشلز نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورے کے تناظر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور چھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عدیل اکرم نے بتایا کہ قذافی سٹیڈیم اور اس کےگردو نواح میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مسلسل گشت کیا جا رہا ہے جبکہ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی حکومت کی جانب سے فوری اِنخلا کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے اور اِس مقصد کے لیے ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی ریہرسل بھی کی گئی ہے۔
پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں
لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے آس پاس 100 سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سے 24 گھنٹے صورتحال کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین صرف دو دروازوں سے ہی سٹیڈیم کے اندر داخل ہو سکیں گے، جبکہ گاڑیوں کی پارکنگ کو بھی سٹیڈیم سے دور رکھا گیا ہے جہاں سے شائقین کو پیدل چل کر سٹیڈیم میں داخل ہونا ہوگا۔
لاہور میں پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں اور سٹیڈیم کے آس پاس تمام کاروباری مراکز اور ریستورانوں کو دو ہفتوں کےلیے بند کر دیاگیا ہے۔
سنیچر اور اتوار کے دن بھی پولیس کی ٹیموں نے فل ڈریس ریہرسل کی تھی جس میں ائیر پورٹ سے نجی ہوٹل اور پھر قذافی سٹیڈیم تک سفر کر کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔


واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور پورے ملک پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے جس کے بعد اب سقوط دمشق نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے۔امریکی اخبار نے شام کی موجودہ زمینی حالات کا ایک جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ محاذ جنگ پر صدر بشارالاسد کے وفاداروں کو باغیوں کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کا سامنا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ حالیہ چند ماہ میں باغیوں نے پیش رفت کی ہے پچھلے چار سال میں کبھی نہیں کی۔ بشارالاسد کی حامی فوجیں باغیوں سے علاقے واپس لینے میں اب بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔رپورٹ میں ادلب گورنری کے علاقے جسرالشغور میں باغیوں کے حالیہ قبضے کو شامی حکومت کی گرفت کی کمزوری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ اور دوسرے باغی گروپوں نے ادلب شہر اور جسرالشغور کے بیشتر علاقوں پر چند ہفتوں کی لڑائی میں ڈرامائی انداز میں قبضہ کر کے اسدی فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے ک;ادلب کے مرکز اور جسرالشغور پر شامی باغیوں کے قبضے کے بعد حمص اور حماہ جیسے شہروں کی طرف باغیوں کی فاتحانہ پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں اسد رجیم کی گرفت کمزور ہونے کے باوجود سقوط دمشق اتنا جلدی ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ صدر بشارالاسد نے دمشق کو ایک مضبوط قلعہ بنا رکھا ہے جس کی فصیلوں کو توڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔ نیز دمشق، باغیوں کا فوری ہدف بھی نہیں۔ انقلابی تنظیموں کے بیشتر مفادات دمشق کے آس پاس کے علاقوں میں ہیں جہاں سے وہ دمشق کی سپلائی لائن کو منقطع کر سکتے ہیں۔انٹرنیشنل اسٹریٹیجک ریسرچ انسٹییٹوٹ سے وابستہ تجزیہ نگار ایمیلی ھوکائم کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اب وہ زیادہ عرصے تک اقتدار پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے پاس چند ہزار فوجیوں اور کچھ اسلحہ کے ذخائر کے سوا اور کچھ نہیں بچا ہے۔ جنگ میں بشارالاسد غیرمعمولی اور ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور اب وہ اپنا نقصان چھپا بھی نہیں سکتے ہیں۔مسز کائم کا کہنا تھا کہ ادلب میں اپوزیشن فورسز کے قبضے کے بعد شام کے جنوبی شہروں بالخصوص حماہ اور حمص میں باغیوں کی پیش رفت کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ اب وہ بشارالاسد کی فوج کے مرکز الاذقیہ پر بھی دستک دینے لگے ہیں۔ جنوب کی سمت سے درعا شہر بھی اب خطرے میں ہے۔ درعا گورنری پر باغیوں کا قبضہ دمشق پر قبضے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق شامی فوج کو رواں سال کے دوران باغیوں کے ہاتھوں بدترین جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی افرادی قوت کم اور باغیوں کی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ادھر صدر بشارالاسد کے خاندان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات نے بھی ان کی حکومت کے مستقبل پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ حال ہی میں شامی حکومت کے ایک دست راست رستم غزالی کی پراسرار ہلاکت نے اسد خاندان میں اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل صدر کے خالد زاد حافظ مخلوف کی دمشق سیکیورٹی کمانڈ کے چیف کےعہدے سے برطرفی، ان کے شام سے فرار اور صدر کے چچا زاد منذرالاسد کو بغاوت کے الزام میں جیل میں ڈالے جانے سے اسد خاندان میں اختلافات میں غیر معمولی حد تک اضافہ کردیا تھا۔ امریکی اخبار نے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بشارالاسد کے خاندان میں اس وقت بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہوچکی ہے۔ اگر فوج کی بڑی تعداد صدر اسد کا ساتھ چھوڑی دیتی ہے جس کا امکان بھی موجود ہے تو وہ اپنا اقتدار بچانے میں ناکام ہوجائیں گے۔ ادھر دوسری جانب ایران اب بھی صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے اب بھی دمشق کی مالی اور عسکری مدد کر رہا ہے۔ دمشق پرعائد عالمی اقتصادی پابندیوں میں اگر کسی نے اب تک بشارالاسد کو سقوط سے بچائے رکھا ہے تو وہ ایران ہے جس کا پیسہ اور اسلحہ اب تک ان کے کام آ رہا ہے۔شام میں سابق امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ خارج از امکان نہیں کیونکہ فوج میں پھوٹ، محاذ جنگ میں مسلسل شکست اور اقتصادی بحران وہ بنیادی اسباب ہیں جو بشارالاسد کا دھڑن تختہ کرسکتے ہیں۔ سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے زوال کی علامات اب ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں معطل کر دی ہیں۔
عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ایک متفرق درخواست پر دیا۔
اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں فوجی عدالتوں کی طرف سے سات ملزمان کو دی جانے والی سزا پر عمل درآمد کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان عدالتوں کے خلاف دائرشدہ درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
فوجی عدالتوں نے رواں ماہ کے آغاز میں چھ افراد کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے جمعرات کو 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت کے موقعے پر درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی طرف سے بنایا گیا کوئی بھی قانون اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا پانے والوں کے پاس اپیل کا حق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے سوال کیا کہ حکومت کو ان سزاؤں پر عمل درآمد کی کیا جلدی ہے اور کیوں نہ انھیں کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا جائے۔
جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کو آرمی ایکٹ کے شق 133 بی کے تحت اپیل کا حق حاصل ہے جسے وہ استعمال کر سکتے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک نے کہا کہ ان افراد کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں اور انھیں سزا ملنے کی خبر بھی میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔
فوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی تھیں
ان کا کہنا تھا ایسی صورت حال میں یہ یقین کیسے ہو کہ ان کے خلاف مقدموں کی کارروائی منصفانہ تھی اور یہ کہ ان کی اپیل پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی یا نہیں۔
جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک دو افراد کو پھانسی دی جا چکی تھی۔
انھوں نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلے کہ اپیل خارج ہونے کے بعد پھانسی دی جا رہی ہے۔
سماعت کے بعد عدالت نے فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ سزا معطل رہے گی۔
عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد شدت پسندی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کے تحت دو سال کے لیے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔
اس ضمن میں پارلیمنٹ سے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کروائی گئی تھی۔
اس کے بعد فوجی عدالت نے رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چھ مجرموں کو موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
فوج کی جانب سے نہ تو ان مقدموں کی تفصیل کے بارے میں کچھ بتایا گیا اور نہ ہی یہ بات سامنے آئی کہ ان فوجی عدالتوں نے ان مقدمات کی سماعت کہاں پر کی ہے۔
میڈیا کو بھی ان مقدمات کوریج کی اجازت نہیں ہے۔
ونود کامبلی نے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں بھارت کی نمائندگی کی ہے
بھارت کے سابق کرکٹر ونود کامبلی نے بھارتی ٹی وی پروگراموں میں سابق پاکستانی کرکٹروں کو شامل کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
اس کے ساتھ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سابق بھارتی کرکٹر اور مبصر نوجوت سنگھ سدھو کے بارے میں نازیبا زبان بھی استعمال کی ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کیا: ’پاکستانیوں کو ہر چینل میں لے کر آتے ہو۔ ارے ان سے کہو کہ ان کے چینلوں میں ہمیں گالیاں ملتی ہیں۔ ہائے ہائے پاکستان، زندہ باد ہندوستان۔‘
اسی قسم کے یکے بعد دیگرے اپنے کئی ٹویٹس کے سبب وہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
سدھو کے لیے غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کامبلی نے انھیں ’اپنی بک بک بند کرنے‘ کو کہا ہے۔
کامبلی اپنے بہت سے متنازع فیہ بیان کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں
اپنی ایک ٹویٹ میں کامبلی لکھتے ہیں: ’سدھو صرف شاعری میں مصروف ہے۔ تبصرہ کون کرے گا، میرا باپ۔ ہمت ہے تو سدھو کو بولو میرا سامنا کرے۔۔۔‘
انھوں نے یہ بھی لکھا: ’ابھی میں رمیز اور شعیب سے ناراض نہیں ہوں۔ آپ نے ان پاکستانیوں کو اپنایا ہے جو ہمیں گالی دے کر ہمیں سے پیسہ لیتے ہیں۔‘
ایسے ٹویٹس کے بعد کئی لوگ کامبلی کو ٹوئٹر پر ’بلانوش‘ اور ’نشے میں دھت‘ بتانے لگے۔
ونود کامبلی نے فلموں میں بھی قسمت آزمائی کی
مقامی شراب کی بوتلوں کی تصاویر کے ساتھ ٹوئٹر ہینڈلTimeSocial سے لکھا گیا: ’ونود کامبلی کے پینے کا پتہ چل گیا ہے۔‘
شوم لكھنپال rude4thought ہینڈل سے لکھتے ہیں: ’سمندر نمکین ہے کیونکہ ونود کامبلی اس میں روئے ہیں۔‘
ٹوئٹر ہینڈلVshalOvercome سے لکھا گیا: ’ونود کامبلی کا معمول: ڈرنك، ٹويٹ، رپيٹ۔‘
اپراجت اے پی شرما نےAppyOfficial سے لکھا: ’ونود کامبلی کی مشکل کیا ہے؟ شاید انھوں نے شراب پی اور ٹویٹ کرنے لگ گئے۔‘
نوجوت سنگھ سدھو آئی پی ایل میں مستقل کمنٹری کرتے آ رہے ہیں
دوسری جانب بعض افراد ونود کامبلی کی حمایت کر رہے ہیں۔
ٹوئیٹر ہینڈل mainbhiengineer سے لکھا گیا: ’جو کامبلی نے کہا، وہ ہر ہندوستانی ایک عرصے سے کہنا چاہتا ہے۔‘
اس کے ساتھ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کامبلی یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کسی نے ہیک کر لیا تھا۔
خواتین کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے دنیا بھر میں اب انٹرنیٹ ایک اہم ہتھیار بنتا جا رہا ہے اور پاکستان میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔
پاکستان میں بھی خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن یہاں نہ تو ایسے جرائم کے خلاف قانون موجود ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ سکیورٹی سے متعلق کوئی آگہی۔
پاکستان میں کتنی خواتین انٹرنیٹ یا سمارٹ فون تک رسائی رکھتی ہیں اس حوالے سے تو کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم ہیکنگ، سائبر سٹاکنگ اور شناخت کی چوری کے واقعات یقیناً ہزاروں خواتین کے ساتھ ہو چکے ہیں۔
فاطمہ علی بھی ان میں سے ایک ہیں۔ فاطمہ نے بتایا کہ انھیں انٹرنیٹ پر دھمکیاں دی گئیں کہ ان کی تمام نجی معلومات آن لائن پوسٹ کر دی جائیں گی۔
’مجھے خود پر بہت اعتماد تھا۔ میں جانتی تھی کہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہی نہیں تو مجھے ایسی دھمکیوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن میں اندر سے ڈر بھی رہی تھی کہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ پتہ نہیں میری کیا بدنامی ہو جائے۔ اور خوف کی وجہ سے میں یہ معلومات اپنی فیملی سے بھی شیئر نہیں کر رہی تھی۔‘
اکثر ایسی صورت حال کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ خواتین ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں بلکہ بہت مرتبہ تو انھیں انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کے استعمال سے ہی روک دیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق بھی اب بنیادی حقوق میں ہی شامل ہوتا جارہا ہے۔
ایسی صورت میں خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت شاید زیادہ ہے کہ وہ آن لائن کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ اور اسی مقصد کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن نے ’ہمارا انٹرنیٹ‘ نامی مہم شروع کی ہے۔
اس مہم کے تحت خواتین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق تربیت دی جا رہی ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کو یہ آگہی دی جارہی ہے کہ سمارٹ فونز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر انھیں کس قسم کے خطرات درپیش ہیں اور وہ اس سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کر سکتی ہیں۔
یہ مہم شروع کرنے والی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نگہت داد نے بتایا: ’لڑکیاں یہ جاننے کے بارے میں بہت پر جوش ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر اپنی بات چیت، تصاویر اور دوسری معلومات کو کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پہلے انھیں اس طرح کی معلومات کبھی دی ہی نہیں گئیں کہ وہ سنگین نوعیت کے سائبر کرائمز سے بچ سکیں اور انھیں پولیس یا عدالت تک نہ جانا پڑے۔ ’ہمارا انٹرنیٹ‘ مہم کے دوران خواتین کو وہ قوانین اور حکمت عملی بھی بتائی جارہی ہے جو وہ آن لائن ہراساں کیے جانے کے بعد اختیار کرسکتی ہیں۔‘
ہادیہ حمید الیکٹریکل انجنیئرنگ کی طالبہ ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برس سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹیں استعمال کررہی ہیں۔ ماضی میں ان ویب سائٹوں کے ذریعے ہراساں بھی ہوچکی ہیں۔
انھوں نے لاہور کی یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہونے والے ’ہمارا انٹرنیٹ‘ کے ایک تربیتی سیشن میں شرکت کی۔
خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت شاید زیادہ ہے کہ وہ آن لائن کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں
ہادیہ کہتی ہیں: ’یہ ایک بہت معلوماتی سیشن تھا۔ مجھے اندازہ اور تجربہ تھا کہ لوگ انٹرنیٹ پر خواتین کو تنگ کرتے ہیں، ان کا پیچھا کرتے ہیں انھیں نامناسب پیغامات بھیجتے ہیں۔ لیکن یہ جرائم کس حد تک جا سکتے ہیں اور اس کے ہم پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں یہ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرتے ہوئے میں خود کو کس طرح محفوظ رکھ سکتی ہوں۔‘
لیکن ہادیہ اور سیشن میں شرکت کرنے والی بہت سے طالبات سمجھتی ہیں کہ اس طرح کی تربیت کو صرف خواتین تک محدود کرنا مناسب نہیں۔
یہ تربیت مردوں کو بھی دی جانی چاہیے اور انھیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ آن لائن اپنی اخلاقیات کا خیال رکھیں اور خواتین کے ڈیجیٹل اور انسانی حقوق کو پامال کرنے سے گریز کریں ورنہ انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں تو شاید ایسے سیشنز کرنا ممکن نہیں تاہم خواتین کے لیے محفوظ براؤزنگ کی ٹپس ’ہمارا انٹرنیٹ‘ کی ویب سائٹ http://www.hamarainternet.org پر بھی دستیاب ہیں۔
Following is a news package done by Zee News of India on Fawad Khan’s refusal to kiss Alia Bhatt.


See the Indian Media Report on Fawad Khan... by shoxee1


The actor expressed his discomfort over some intimate scenes he had with Alia Bhatt, in upcoming movie Kapoor and Sons.
It’s nice to know the lad isn’t ready to disappoint his Pakistani fans back home, who still loathe the possibility of a celebrity of their country locking lips or shooting intimate scenes on-screen.
Tonite With HSY 11th April 2015 Full Show by Hum Sitaray. Mohib Mirza and Aamina Sheikh in Tonite With HSY Show on 11 April 2015 . Tonite With HSY Show is the Most Popular Show of Hum Sitaray Channel so Far.
امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اتحادی ممالک کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون بھی بڑھا رہا ہے
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار اتحاد کے لیے اسلحے کی فراہمی کا عمل تیز کر رہا ہے۔
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اتحادی ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون بھی بڑھا رہا ہے۔
ادھر امدادی اداروں نے یمن کے شہر عدن میں انسانی بحران میں اضافے سے متعلق بھی خبردار کیا ہے جہاں شہر کی سڑکوں پر باغیوں اور حکومتی اتحادیوں کی لڑائی جاری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یمن میں جاری لڑائی میں کم سے کم ساڑھے پانچ سو افراد ہلاک اور دو ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم 74 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو اس لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان کا کہنا ہے عدن میں صورت حال ’تباہ کن‘ ہے۔
میری کلیئر فغالی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدن میں ہر گلی ہر کونے میں جنگ ہو رہی ہے اور بہت سے شہری بھاگ کر کہیں جا بھی نہیں سکتے۔‘
یمن میں مقیم غیر ملکی اور یمنی شہری خلیجِ عدن کے راستے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہی
منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض کے دورے کے موقعے پر امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے اسلحے کی فراہمی تیز کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کے اس پیغام کی حمایت کرنا ہے جس کے مطابق سعودی عرب نے حوثی باغیوں کو باور کروایا ہے کہ یمن کو طاقت کے زور پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوب سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی باغیوں نے عدن کا محاصرہ کر رکھا ہے اور دو ہفتے سے اس کے ردِ عمل میں حوثیوں پر سعودی فضائی حملے جاری ہیں جس کی زد میں عام شہری آتے ہیں۔
اتحادی فوج نے جنوبی یمن کے اِب شہر میں حوثیوں کے ایک فوجی اڈے پر بمباری کی تھی۔
یمن میں مقیم غیر ملکی اور یمنی شہری خلیجِ عدن کے راستے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے فضائی حملے پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں کم از کم 74 بچے شامل ہیں
آئی سی آر سی نے اس سے پہلے عدن میں 24 گھنٹے کی جنگ بندی کے لیے کہا تھا۔ جبکہ روس نے بھی سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر فضائی حملوں کو روکنے کی حمایت کرے۔
سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے آئی سی آر سی کے طبی سپلائی اور عملہ لے جانے والے جہازوں کو وہاں اترنے کی اجازت دی ہے۔
دو ہفتے قبل یمن کے صدر صدر عبد ربہ ہادی کو یمن چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑا تھی۔ حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور وہ اس پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔
ان کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثی قبائل کو ایران کی فوجی حمایت حاصل ہے لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔
ایران پاکستان پر مسلح گرہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب آٹھ ایرانی سرحدی محافظ مسلح افراد سے جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
اطلات کے مطابق ایرانی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے افراد پاکستان سے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں داخل ہوئے۔
ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے ہیں۔ حملہ آروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
خیا ل رہے کہ حالیہ برسوں میں سیستان بلوچستان کے صوبے میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی سمگلروں اور سنی باغی گروہوں سے کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق صوبے کے نائب گورنر علی اصغر میرشکری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مسلح دہشت گردوں نے ایران میں داخل ہو کر سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا۔
نائب گورنر علی اصغر میر شکری کا کہنا تھا کہ حملہ آور راکٹ لانچروں سمیت جدید اسلحے سے لیس تھے۔ انھوں نے پاکستان سے حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ایران کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واضع رہے کہ یہ حملہ سنہ 2013 میں سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے حملے جس میں 14 سرحدی محافظ مارے گئے تھے کے بعد سے صوبے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔