پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے معاملے پر حکومت کے ساتھ تمام معاملات طے ہو گئے ہیں لیکن قومی اسمبلی میں واپسی کا فیصلہ عدالتی کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد کیا جائے گا۔
اس بات کا فیصلہ اتوار کو تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی قیادت میں اسلام آباد میں ہونے والے کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس تمام پارٹی عہدے تحلیل کرنے اور دوبارہ انتخابات کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
حال ہی میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
تحریک انصاف نے حکمران جماعت مسلم لیگ نواز پر عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور دھاندلی کی تحقیقات نہ کرنے پر کئی ماہ تک دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیا۔
تحریک انصاف نے خبیر پختونخوا کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر نے پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفیٰ منظور نہیں کئے تھے۔
کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں بتایا کہ اجلاس میں عدالتی کمیشن کے قیام اور پارٹی کی تنظیمِ نو کے حوالے جسٹس وجہی الدین کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے اور شفاف انتخابات سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ’جوڈیشل کمیشن کی ہماری ڈیمانڈ پوری ہو گئی ہے۔ اسمبلیوں میں واپس جانے کا حتمیٰ فیصلہ کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد ہی کیا جائے گا۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا ’حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے کئی معاملات گزشتہ سال دسمبر تک طے پا گئے تھے، صرف کمیشن کے ٹرم آف ریفرنس پر اختلاف تھا جو اب ختم ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو تمام پارلیمانی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔‘
یاد رہے کہ 20 مارچ کی شام پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت نے 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے پر اتفاق کر لیا تھا اور دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عام انتخابات 2013 کی تحقیقاتی کمیشن آرڈینیس 2014 جاری کیا گیا ہے۔
آرڈینیس کے تحت جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کرے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں قانون کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں اور عام انتخابات کے مجموعی نتائج شفاف اور منصفانہ عوامی مینڈیٹ کا مظہر ہیں یا نہیں۔
جوڈیشل کمیشن کوعام انتخابات میں دھاندلی کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن سے متعلق تمام دستاویزات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام عہدے تحلیل کر دئیے گئے ہیں اور پارٹی میں دوبارہ سے انتخابات کروائے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ عمران خان آئندہ دو دونوں میں پارٹی کے الیکشن کمیشن کا اعلان کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ جب تک پارٹی میں نئے انتخابات نہیں ہو جاتے اُس وقت تک عمران خان پارٹی کا اُمور چلانے کے لیے نامزدگیاں کریں گے۔‘
خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ نواز پر الزام عائد کیا ہے کہ اُنھوں نے عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کی اور تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا ہے۔
تحریک انصاف نے دھاندلی کی تحقیقات نے کرنے پر اسلام آباد میں حکومت خلاف دھرنا دیا اور یہ احتجاجی دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا۔ دھرنے کے دوران ہی عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی اور پنجاب سندھ کی صوبائی اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہو گی۔تحریک انصاف کے اراکین نے خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے استعفی نہیں دیا تھا۔
خیبر پختوانخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا سے کامیابی ملی تھی۔
تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں عارف علوی، شفقت محمود، شیریں مزاری، اسد عمر اور پرویز خٹک سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔
0 comments:
Post a Comment