ڈیڈ لائن سر پر آگئی، عبوری جوہری معاہدے پر’اختلافات‘ برقرار

فی الوقت اس مقام پر نہیں کہ کہہ سکیں کہ ہم معاملات کے حل کے قریب ہیں: عباس عراقچی
ایران کے جوہری پروگرام پر عبوری سمجھوتے کی ڈیڈ لائن کے خاتمے کا وقت قریب آنے کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں جاری مذاکرات میں بھی تیزی آگئی ہے۔
اس عبوری معاہدے کے لیے دی گئی حتمی مدت منگل کی شب ختم ہو جائے گی اور مذاکرات کاروں نے پیر کو رات گئے تک بات چیت کے بعد منگل کی صبح دوبارہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی کے مندوبین تقریباً ایک ہفتے سے ایرانی حکام سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ 18 ماہ سے جاری ان جوہری مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔
مذاکرات کاروں کی کوشش ہے کہ منگل کی رات تک وہ معاہدے کے ڈھانچے پر متفق ہو جائیں جس کی بنیاد پر تکنیکی تفصیلات کے حوالے سے ایک وسیع البنیاد معاہدہ طے پا سکے جس کے لیے 30 جون کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پیر کی شب سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم رات گئے تک اور پھر کل کام جاری رکھیں گے۔ اب بھی کچھ مشکل معاملات باقی ہیں۔ ہم انھیں حل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں اور ہر کوئی کل کی اہمیت جانتا ہے۔‘
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور ملک کے نائب وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی پیر کی شب مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ ’ہم فی الوقت اس مقام پر نہیں کہ کہہ سکیں کہ ہم معاملات کے حل کے قریب ہیں لیکن ہم پرامید ہیں اور اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘
ہر کوئی کل (منگل کے دن) کی اہمیت جانتا ہے: جان کیری
ایران کے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا’ذاتی طور پر میرے خیال میں یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کل کسی معاہدے تک پہنچ جائیں یا یہ فیصلہ کر لیں کہ معاہدہ کرنا ممکن نہیں اور بات چیت کا رخ بدل جائے۔ جو بھی ہو ہم پرامید ہیں کہ کل یا پھر پرسوں یہ طے ہو جائے گا۔‘
مذاکرات سے وابستہ ایک مغربی سفارت کار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں لگ رہا ہے کہ وقت آ چکا ہے کہ معاہدہ ہو یا پھر نہیں۔ کیونکہ اگر ہم ابھی کسی قسم کے عبوری معاہدے پر متفق نہیں ہوتے تو اس چیز کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہوگی کہ 30 جون تک ایسا کیسے ممکن ہو سکے گا۔‘
ایران اور چھ عالمی طاقتیں نومبر 2013 میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کے بعد طویل المدتی معاہدے کی حتمی مدت میں دو مرتبہ اضافہ کر چکی ہیں۔
اب فریقین نے 31 مارچ تک جامع معاہدے کے خدوخال پر اتفاق اور 30 جون تک تکینکی تفاصیل کے ساتھ جامع معاہدے کی منظوری کی ڈیڈ لائنز مقرر کی ہوئی ہیں۔
امریکی کانگریس نے پہلے ہی متنبہ کر دیا ہے کہ اگر 31 مارچ تک اس سلسلے میں اتفاقِ رائے نہ ہوا تو وہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرے گی تاہم امریکی صدر براک اوباما پہلے ہی ان پابندیوں کو ویٹو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مستقبل میں ایران کی یورینیئم کی افزودگی پر تحقیق و ترقی اور اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کی رفتار وہ معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو پا رہا۔
اس بات کے پیسے نہیں ملتے کہ پُرامید دکھائی دوں: سرگئی لاوروو
جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات کے کامیاب ہونے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ایران کی جوہری تحقیق اور ترقی کا معاملہ ہے۔

کون کیا چاہتا ہے؟

  • امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین چاہتے ہیں کہ ایران دس سال سے زائد عرصے کے لیے اپنا حساس ترین جوہری پروگرام معطل کر دے۔
  • ایران کے مذاکرات کار حمید بعیدی نِژاد کہتے ہیں کہ 15 سال تک جوہری پروگرام بند رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مگر دس سال کے لیے ایسا کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
  • ابتدا میں ایران نے اپنی تقریباً 10000 سینٹری فیوجز مشینوں کو آپریشنل رکھنے کا اصرار کیا تھا۔
  • نومبر 2014 میں امریکہ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ 6000 سینٹری فیوجز میں کام جاری رکھنے کو تسلیم کر سکتا ہے مگر ایرانی حکام کا کہنا کہ وہ ساڑھے چھ سے سات ہزار تک سینٹری فیوجز کو آپریشنل رکھنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔
لوزین میں موجود بی بی سی نامہ نگار باربرا پلِیٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر کم ازکم ایک دہائی یعنی دس سال کی پابندی عائد کی جائے گی جس میں سخت معائنہ کاری بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اب بھی اس پر باہمی اتفاق نہیں ہو سکا کہ ایران کو کتنے عرصے تک اپنا پروگرام محدود رکھنا ہوگا اور اس پر عائد پابندیوں سے اسے کتنے عرصے میں چھٹکارا مل سکے گا۔
عالمی طاقتیں ایران سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنی سینٹری فیوجز مشینوں میں دو تہائی کمی کرے اور جوہری مواد کے ذخیرے کو روس کے حوالے کر دے۔