بس کر دو بس!

جس طرح جنگجو اقوام کے رہنما عوام کے سامنے ہر وقت ایک دشمن تیار رکھتے ہیں جس سے ڈرا کر وہ قوم کو جنگی جنون میں دھکیل سکیں، اسی طرح پاکستان کے صحافیوں کو ہر وقت کسی ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ برا کہہ سکیں اور جس کی وہ تذلیل کر سکیں۔
شاید ان کے خیال میں اس طرح وہ ریٹنگ کی ریس جیت لیتے ہیں۔ سیاست دان تو اس ملک میں غریب کی جورو کی حیثیت رکھتے ہیں جو سب ہی کی بھابھی ہوتی ہے، جو چاہے اس کا مذاق اڑا لے۔ تاہم اب یہ سلسلہ سیاست سے ہو کر کھیل اور خاص کر کرکٹ اور اس سے منسلک افراد تک بھی پہنچ گیا ہے۔
سرفراز احمد کو پہلے میچوں میں نہ کھلانے کے فیصلے پر کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کی جو درگت بن رہی ہے وہ اس کی ایک مثال ہے۔ جن افراد کا کرکٹ سے تعلق صرف دیکھنے کی حد تک ہے وہ ٹی وی پر بیٹھ کر ایسے تجزیے کر رہے ہیں جیسے ساری زندگی کرکٹ کی رپورٹنگ میں گزری ہو۔
یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ سرفراز احمد کے معاملے پر وقار یونس سے غلطی ہوئی اور وہ اس معاملے پر درست فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس کو کھلانا چاہیے، لیکن کیا یہ ان کی تضحیک کا جواز بن جانا چاہیے؟
یہ صورتِ حال اس وقت زیادہ مضحکہ خیز ہو جاتی ہے جب ایک نجی چینل کے ایک پروگرام میں میزبان سلمان بٹ کو بطور مہمان بُلا کر ان سے وقار اور مصباح الحق پر رائے لیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد ہی ٹیم میں واپس آئیں کیونکہ پاکستان کو ایک منفرد انداز کے کھلاڑی کی ضرورت ہے۔
سرفراز احمد کو پہلے میچوں میں نہ کھلانے کے فیصلے پر کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کی درگت بن رہی ہے
ایک صاحب ایک دوسرے پروگرام میں فرماتے ہیں کہ وقار یونس تو وسیم اکرم اور شعیب اختر جتنے بڑے کھلاڑی نہیں ہیں کہ وہ کوئی بڑا فیصلہ کر سکیں۔
اس پر خیال آتا ہے کہ پاکستان کی اصل بدنامی بھارت یا ویسٹ انڈیز سے میچ ہارنے سے ہوئی ہے یا اس کپتان سے جو سپاٹ فکسنگ کے جرم میں برطانیہ کی عدالت سے سزا پاکر جیل کاٹ کر آیا ہے اور جس کے لیے اب دعا کی جا رہی ہے؟
وسیم اکرم جنہیں ’سوئنگ کا سلطان‘ کہہ کر ان کی ماہرانہ رائے لی جاتی ہے ان پر بھی سٹے بازی کا الزام لگا اور جسٹس ملک قیوم کی رپورٹ کی روشنی میں ان پر کپتانی کرنے پر پابندی بھی عائد ہوئی تھی۔
وقار یونس کی ہتک کرنے والوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیم میں موجود چاروں فاسٹ بولر جن کی کارکردگی کے گُن گائے جارہے ہیں وہ سبھی اس بات کے معترف ہیں کہ وقار ان کی بہت مدد کرتے ہیں اور انھیں سکھاتے رہتے ہیں۔
بولر اچھی کارکردگی دکھائیں تو ان کی واہ واہ، اور بری کارکردگی دکھائیں تو کوچ کا قصور۔
پاکستانی فاسٹ بولر اس بات کے معترف ہیں کہ وقار ان کی بہت مدد کرتے ہیں اور انھیں سکھاتے رہتے ہیں
پاکستان کرکٹ کی تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری ہوئی ہے جن پر نکتہ چینی کی جاتی ہے اور کی جاتی رہے گی۔
عمران خان نے 1987 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آخری اوور سلیم جعفر کو دے کر بھیانک غلطی کی جس میں سلیم جعفر نے 18 رنز دے دیے اور پاکستان انھی 18 رنز سے ہارگیا۔
1992 کے ورلڈکپ میں آؤٹ آف فارم سلیم ملک کو کیوں کھلایا گیا تھا؟ اگر یاد ہو تو انگلینڈ کےخلاف پاکستان کی پوری ٹیم صرف 74 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ وہ تو بھلا ہو بارش کا جس نے وہ میچ برابر کروا کر پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا تھا۔
1999 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں گیلی وکٹ پر وسیم اکرم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم صرف 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
کرکٹ کے کھیل میں فیصلے کیے جاتے ہیں جو صحیح بھی ہوتے ہیں اور غلط بھی اور دوسرے پر نکتہ چینی وہ کرے جو خود غلطی سے مبرا ہو۔