Latest News

امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اتحادی ممالک کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون بھی بڑھا رہا ہے
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار اتحاد کے لیے اسلحے کی فراہمی کا عمل تیز کر رہا ہے۔
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اتحادی ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون بھی بڑھا رہا ہے۔
ادھر امدادی اداروں نے یمن کے شہر عدن میں انسانی بحران میں اضافے سے متعلق بھی خبردار کیا ہے جہاں شہر کی سڑکوں پر باغیوں اور حکومتی اتحادیوں کی لڑائی جاری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں یمن میں جاری لڑائی میں کم سے کم ساڑھے پانچ سو افراد ہلاک اور دو ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم 74 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو اس لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان کا کہنا ہے عدن میں صورت حال ’تباہ کن‘ ہے۔
میری کلیئر فغالی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدن میں ہر گلی ہر کونے میں جنگ ہو رہی ہے اور بہت سے شہری بھاگ کر کہیں جا بھی نہیں سکتے۔‘
یمن میں مقیم غیر ملکی اور یمنی شہری خلیجِ عدن کے راستے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہی
منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض کے دورے کے موقعے پر امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے اسلحے کی فراہمی تیز کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کے اس پیغام کی حمایت کرنا ہے جس کے مطابق سعودی عرب نے حوثی باغیوں کو باور کروایا ہے کہ یمن کو طاقت کے زور پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوب سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی باغیوں نے عدن کا محاصرہ کر رکھا ہے اور دو ہفتے سے اس کے ردِ عمل میں حوثیوں پر سعودی فضائی حملے جاری ہیں جس کی زد میں عام شہری آتے ہیں۔
اتحادی فوج نے جنوبی یمن کے اِب شہر میں حوثیوں کے ایک فوجی اڈے پر بمباری کی تھی۔
یمن میں مقیم غیر ملکی اور یمنی شہری خلیجِ عدن کے راستے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے فضائی حملے پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں کم از کم 74 بچے شامل ہیں
آئی سی آر سی نے اس سے پہلے عدن میں 24 گھنٹے کی جنگ بندی کے لیے کہا تھا۔ جبکہ روس نے بھی سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر فضائی حملوں کو روکنے کی حمایت کرے۔
سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے آئی سی آر سی کے طبی سپلائی اور عملہ لے جانے والے جہازوں کو وہاں اترنے کی اجازت دی ہے۔
دو ہفتے قبل یمن کے صدر صدر عبد ربہ ہادی کو یمن چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑا تھی۔ حوثی قبائل نے کہا ہے کہ ان کا مقصد حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور وہ اس پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔
ان کی حمایت سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثی قبائل کو ایران کی فوجی حمایت حاصل ہے لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔
ایران پاکستان پر مسلح گرہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب آٹھ ایرانی سرحدی محافظ مسلح افراد سے جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
اطلات کے مطابق ایرانی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے افراد پاکستان سے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں داخل ہوئے۔
ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے ہیں۔ حملہ آروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
خیا ل رہے کہ حالیہ برسوں میں سیستان بلوچستان کے صوبے میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی سمگلروں اور سنی باغی گروہوں سے کئی بار جھڑپیں ہوچکی ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق صوبے کے نائب گورنر علی اصغر میرشکری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مسلح دہشت گردوں نے ایران میں داخل ہو کر سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا۔
نائب گورنر علی اصغر میر شکری کا کہنا تھا کہ حملہ آور راکٹ لانچروں سمیت جدید اسلحے سے لیس تھے۔ انھوں نے پاکستان سے حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ایران کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
واضع رہے کہ یہ حملہ سنہ 2013 میں سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے حملے جس میں 14 سرحدی محافظ مارے گئے تھے کے بعد سے صوبے میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔
عامر خان فلم انڈسٹری میں منتخب اور مختلف النوع کردار ادا کرنے کے لیے معروف ہیں
بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان ان دنوں اپنی آنے والی فلم ’دنگل‘ کی تیاری میں مصروف ہیں جو میں وہ ایک پہلوان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس فلم کی خاص بات یہ بھی ہے کہ پہلی بار عامر خان چار بیٹیوں کے باپ کا بھی کردار ادا کریں گے اور ان چار لڑکیوں کی تلاش کا کام اب بھی جاری ہے۔
فلم ’دنگل‘ کے لیے ابھی تک 21 ہزار لڑکیوں کا آڈیشن کیا جا چکا ہے۔
پہلے یہ باتیں گشت کر رہی تھیں کہ اس فلم کے لیے معروف اداکارہ کنگنا راناوت کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے لیکن کنگنا نے اس خبر مسترد کر دیا ہے۔
عامر خان سماجی موضوعات کے حوالے سے حساس نظر آتے ہیں
اطلاعات کے مطابق اس فلم کے لیے ایک بھی لڑکی فلم انڈسٹری سے نہیں ہو گی۔ دراصل فلم کے لیے عام لڑکیوں کی تلاش ہے جو پردۂ سیمیں پر پہلے کبھی نظر نہ آئی ہوں۔
فلم کی ٹیم نے ملک کے مختلف شہروں میں جا کر ہزاروں لڑکیوں کا آڈیشن کیا اور جو ریاست ہریانہ، اترپردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے شہروں میں بھی کیا گیا۔
فلم کی کاسٹ کے بارے میں عامر خان کے ساتھ ساتھ فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سبھی بہت سنجیدہ ہیں۔
اس فلم میں کنگنا راناوت کے شامل ہونے کی بات سامنے آئی تھی جسے کنگنا نے بے بنیاد قرار دیا تھا
وہ سب فلم سے تعلق رکھنے والی ہر چیز پر خاصی توجہ دے رہے ہیں تاہم ابھی تک فلم کی مکمل کاسٹ طے نہیں ہو پائی ہے۔
اس فلم کے لیے عامر خان نے اپنا وزن بڑھا کر 90 کلو تک کلر دیا ہے۔
ویسے بھی عامر خان کو فلم انڈسٹری میں ’مسٹر پرفیكشنسٹ‘ کے نام سے معروف ہیں اور جب تک ان کو پرفیكٹ کاسٹ نہیں ملے گی، فلم کی شوٹنگ شروع نہیں ہو گی۔
یمن کی صورتِ حال پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں منگل کو دوسری دن جاری ہے
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے مسئلے پر ایوان حکومت کی رہنمائی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یمن کی صورتِ حال کے بارے میں کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی ہے اور اسی لیے ہم پارلیمان سے رہنمائی چاہتے ہیں۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمان کے مشوروں کو نیک نیتی کے ساتھ پالیسی کا حصہ بنائیں گے کیونکہ یمن کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ ہے۔
نواز شریف کے مطابق ’حکومت نے کوئی فیصلہ خفیہ طور پر نہیں کرنا بلکہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تجاویز کے لیے طلب کیا ہے اور ان تجاویز سے ہی پالیسی ترتیب دی جائے گی۔‘

یمن کی صورتِ حال پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں منگل کو دوسری دن جاری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی کے صدر کی سعودی وزیر داخلہ سے ملاقات ہوئی ہے، ترک صدر سے مزید بات کے بعد مشترکہ پالیسی بنائیں گے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ بھی پاکستان آ رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یمن میں ہونے والی جنگ سے سعودی زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو جنگ بندی، یمن میں امن کےقیام کی کوشش کرنی چاہیے۔
انھوں نے تجویز دی کہ پاکستان یا ترکی کو سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کروا کر ان کے تنازعات ختم کروانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے کہا عرب سپرنگ کے بعد خطے کی سیاست بدل رہی ہے اور بدقسمتی سے عرب ملک خانہ جنگی کی جانب جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
میر حاصل بزنجو نے کہا کہ مشرق وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا تعلق نہیں ہے بلکہ اس صورت حال کو مشرق وسطیٰ کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
انھوں نے تجویز دی کہ مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے۔
یکم اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں پانچ سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیاتھا کہ یمن کے مسئلے پر کسی فردِ واحد کو فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور حکومت کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کرے
جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ تنازعات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ ثالثی ہے اس لیے پاکستان کو اس مسئلےکے لیے ثالثی کا کردار کرنا چاہیے۔
سراج الحق کے مطابق یمن کا مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ایک عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی نبھانے کے لیے اسے جنگ سے بچانا ہو گا۔
جماعتِ اسلامی کےسربراہ کا کہنا تھا کہ یمن کی صورتِ حال پر پارلیمان سے رائے لیناحکومت کا احسن اقدام ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے مصالحت کی راہ اپنانی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ یمن کی جنگ میں حصہ بننے سے فرقہ واریت کو ہوا ملے گی۔
اس سے پہلے پیر کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جب شروع ہوا تو پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمان میں واپسی پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے شدید نعرہ بازی کی۔
حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا نعروں سے استقبال کیا اور سپیکر اور وزرا کے سمجھانے کے باوجود وہ تحریک انصاف کے خلاف جملے کستے اور طعنے دیتے رہے۔


تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں جنہوں نے شور مچایا وہ دراصل خوفزدہ ہیں کہ اگر دھاندلی پکڑی گئی تو سب کا پردہ چاک ہوگا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایوان میں واپس آنے پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے جس طرح استقبال کیا اس پر ان کا شکر گزار ہوں اور خاص طور پر ان ارکان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے شور مچایا لیکن ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب تمام جماعتوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو شور کرنے والے بتائیں کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات ہونی چاہئے یا نہیں، شور مچانے والے ڈرتے ہیں دھاندلی پکڑی گئی تو سب کا پردہ چاک ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سوا سال 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے اور جب آواز نہیں سنی گئی تو سڑکوں پر آنا پڑا لیکن اب جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ پورا ہوگیا تو اسمبلیوں میں واپس آگئے، جوڈیشل کمیشن کا قیام ہمارا اصولی موقف تھا جس کی تشکیل سے جمہوریت کو فائدہ ہوگا اور دھاندلی کے ثبوت اب جوڈیشل کمیشن کے سامنے لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شور مچانے والے بتائیں دھاندلی کی تفتیش کا فائدہ مجھے ہوگا یا پارلیمنٹ کو، ان سب کو تو خوش ہونا چاہئے تھا کہ جمہوریت آگے بڑھے گی اور دھاندلی پکڑی گئی تو آئندہ انتخابات صاف شفاف ہوں گے۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری بھی عمرا ن خان کے اسمبلی میں جانے پر بول پڑے ‘ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے تمام آر اوز پر الزمات لگائے تو کیا شہادت لائے ہیں، عمران خان نے تو خود اسمبلیوں میں واپس جاکر اپنے ہی الزامات کو غلط ثابت کردیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے منہ سے نکالے ہوئے الفاظ کو چاٹ لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفت گو میں افتخار  محمد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کرنے میں لیت و لال سے کام لیا، میری نظر میں پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور ہوچکے ہیں، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حاضری آئین کے خلاف تھی۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزرا کی توجہ اس جانب دلوائی اور انہیں اپنے ارکان کو خاموش کروانے کی ہدایت کی
یمن کے تنازعے پر پالیسی سازی کے لیے بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کے روز آغاز میں بدمزگی کا شکار رہا۔
حکمران جماعت مسلم لیگ کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا نعروں سے استقبال کیا اور سپیکر اور وزرا کے سمجھانے کے باوجود وہ مسلم تحریک انصاف کے خلاف جملے کستے اور طعنے دیتے رہے۔
ایسا لگا کہ جیسے مسلم لیگی ارکان اپنا سارا غصہ ایک ہی دن میں نکال دینے کے ارادے سے پارلیمنٹ ہاؤس آئے تھے۔
اس سے پہلے کہ سپیکر ایاز صادق اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کرتے، مسلم لیگی ارکان نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی سے شور مچا کر ایوان سے معافی مانگنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔
اس شور شرابے اور پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج کے دوران بعض مسلم لیگی ارکان کچھ نازیبا اور غیر پارلیمانی نعرے بھی بلند کرتے رہے۔ ان کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کو جعلی اور ارکان کو چور اچکے کہنے پر معافی مانگے۔
ابتدائی طور پر مسلم لیگی ارکان نے کورس کے انداز میں جو نعرہ بلند کیا وہ تھا، ’معافی مانگو معافی‘۔ لیکن ماحول جوں جوں گرم ہوتا گیا اور نا صرف اس نعرے کے ساتھ کچھ نازیبا کلمات کا اضافہ ہوا بلکہ کچھ نئے نعرے بھی لگائے گئے۔ مسلم لیگی ارکان نے ’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘ کے نعرے بھی لگائے۔
ابتدا میں تو وفاقی وزرا خاموشی سے بیٹھے یہ سب دیکھتے رہے۔ بلکہ بعض کے چہرے سے تو یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس صورتحال کا مزا بھی لے رہے ہیں۔
پھر صدر مجلس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزرا کی توجہ اس جانب دلوائی اور انہیں اپنے ارکان کو خاموش کروانے کی ہدایت کی۔ لیکن حکمران جماعت کے ارکان کو خاموش کروانے کی تمام تدبیریں بے سود ثابت ہوئیں۔
نعرے لگتے رہے، ڈیسک بجتے رہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان عمران خان کی قیادت میں خاموشی سے یہ سب دیکھتے اور سہتے رہے۔
پی ٹی آئی کے ارکان عمران خان کی قیادت میں خاموشی سے یہ سب دیکھتے اور سہتے رہے۔
لیکن جب سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی دھمکی دی تو اس پر وزرا اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے مداخلت کر کے شور مچانے والے مسلم لیگی ارکان کو خاموش کروا دیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پچھلے سال دیے گئے احتجاجی دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان مسلسل یہ کہتے رہے کہ کیونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اس لیے منتخب ادارے جعلی ہیں اور اس میں بیٹھے ارکان کے بارے میں بھی وہ نامناسب زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی بنا پر عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے قومی اسمبلی سے استعفے بھی دے دیے تھے۔
پیر کو جب عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئے تو جمیعت علمائے اسلام کے مولانا امیر زمان نے نکتہ اٹھایا کہ یہ ارکان تو قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں لہٰذا وہ اس ایوان کے لیے اجنبی ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جو کہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، انہوں نے اس تنازعے کی وضاحت کرتے کہا کہ انہوں نے یہ استعفے منظور نہیں کیے تھے۔
’اسمبلی کے قواعد میں واضح لکھا ہے کہ میرے لیے ضروری ہے کہ میں یہ تصدیق کروں کہ یہ استعفے رضا کارانہ دیے گئے ہیں یا نہیں۔ چونکہ یہ ثابت نہیں ہوا اس لیے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے لہذٰا وہ قومی اسمبلی کے ارکان ہیں۔‘
پارلیمنٹ کا یہ مشترکہ اجلاس چند روز چلے گا لیکن لگتا ایسا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو اس انوکھے احتجاج کا سامنا اس سے زیادہ دن کرنا ہو گا۔