Latest News

تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے
سعودی عرب میں شیعہ آبادی کی اکثریت پر مشتمل مشرقی صوبے قطیف میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ایک غیر ملکی سمیت پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ میں زخمی ہونے والوں میں ایک غیر ملکی شہری، مقامی شخص اور تین پولیس اہکار شامل ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی فورسز علاقے میں چھپے دہشت گردوں کو تلاش کر رہی تھیں، کہ انھوں نے چھپ کر فائرنگ کر دی۔ ترجمان نے شیعہ سرگرم افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ’دہشت گرد‘ قرار دیا۔
تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف کی زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
قطیف کے علاقے العموامیہ میں حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تلاش میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے اور اُن کے قبضے سے ہتھیار اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں۔
سعودی عرب میں شیعہ آبادی کا الزام ہے کہ سنّی حکام اُن کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں اور انھیں فوج اور اعلیٰ سرکاری ملازمتیں نہیں دی جاتی۔
یمن عراق اور شام میں فرقہ ورانہ فسادات میں اضافے کے بعد سعودی عرب کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں اسی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مارے جانے والے افراداسی ماہ میں ایک فوجی کی ہلاکت میں ملوث تھے۔
اس سے قبل سنہ 2011 میں سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے العموامیہ کے علاقے میں چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد سعودی عرب کی شیعہ آبادی نے حکومت مخالف احتجاج شروع کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب میں رائج سنی بادشاہت ختم کر کے وہاں جمہوری اصلاحات نافذ کی جائیں۔
اس احتجاج میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے اور مرنے والوں کی اکثریت مقامی افراد کی تھی جو پولیس کی جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔
مبصرین اور طالبان پر نظر رکھنے والے ملا عمر کی پیدائش اور وراثت سمیت کئی باتوں پر متفق نہیں ہو پائے ہیں
افغان طالبان نے اپنے رہنما ملا محمد عمر کی سوانح عمری شائع کی ہے۔
پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل یہ سوانح عمری ملا عمر کے افغان طالبان کے سپریم کمانڈر کے طور 19 سال پورے ہونے کے موقع پر افغان طالبان کی اہم ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔
اس میں ان کی پیدائش اور پرورش کے بارے میں متنازع حقائق کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس تحریر کے مطابق ملا عمر کا پسندیدہ ہتھیار آر پی جی 7 ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک عام زندگی جیتے ہیں اور کمال کی حسِ مزاح کے مالک ہیں۔
سوانح عمری میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر کہاں ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا لیکن وہ افغانستان اور دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعات سے مطلع رہتے ہیں۔
افغانستان پر سنہ 2001 میں امریکی کمان میں اتحادی افواج کے حملوں کے بعد سے ملا عمر کو نہیں دیکھا گیا اور امریکی حکام نے ملا عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی ہوئی ہے۔
القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی حمایت امریکہ کی ملا عمر کے خلاف مہم کا بنیادی وجہ تھی۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ طالبان نے اپنے رہنما کی قیادت کے 19 سال مکمل ہونے پر ہی ان کی سوانح عمری کیوں شائع کی لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ یا داعش کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
تحریر کے مطابق 1983 سے 1991 کے درمیان فوجی کارروائیوں میں روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے ملا عمر چار بار زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ بھی ضائع ہوگئی
مبصرین اور طالبان پر نظر رکھنے والے ملا عمر کی پیدائش اور وراثت سمیت کئی باتوں پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔
سوانح عمری کے مطابق ملا عمر کی پیدائش 1960 میں ملک کے جنوبی صوبے قندھار کے ضلع خاكریز کے چاہِ ہمت نامی گاؤں میں ہوئی تھی۔
تحریر میں طالبان اپنے سپریم لیڈر کا ذکر ملا محمد عمر ’مجاہد‘ کے نام سے کرتے ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہوتك قبیلے کی شاخ تومزئي سے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان کے والد مولوی غلام نبی ایک ’معزز عالم اور سماجی شخصیت‘ تھے اور ملا عمر کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی وہ وفات پا گئے تھے جس کے بعد ان کا خاندان صوبہ ارزگان منتقل ہوگیا تھا۔
اس سوانح میں کہا گیا ہے کہ سوویت فوجوں کے افغانستان پر حملے کے بعد ملا عمر ’مذہبی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے‘ مدرسے میں جاری تعلیم چھوڑ کر جہادی بن گئے۔
تحریر کے مطابق 1983 سے 1991 کے درمیان فوجی کارروائیوں میں روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے ملا عمر چار بار زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ بھی ضائع ہوگئی۔
1994 میں ملا عمر نے جنگی سرداروں کے درمیان ’قبائلی لڑائی‘ سے نمٹنے کے لیے مجاہدین کی قیادت کی جس کے بعد 1992 میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
’موجودہ سنگین حالات میں دشمن مسلسل ان پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن ان کے معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔‘
اس کے بعد 1996 میں انہیں ’امیر المومنين‘ کا خطاب دیا گیا اور وہ طالبان کے سپریم لیڈر بن گئے۔
سوانح میں کہا گیا ہے کہ کابل پر قبضہ کرنے کے بعد ملا عمر نے وہاں اسلامی امارات آف افغانستان کی بنیاد رکھی جس کے خلاف ’شرعی قانون کو برداشت نہ کر پانے والی دنیا کی مغرور کافر قوتوں‘ نے مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر دی۔
ملا عمر کی ’کرشماتی شخصیت‘ کے عنوان والے حصے میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر متحمل مزاج کے ہیں اور انھیں جلد غصہ نہیں آتا اور یہ کہ وہ ملنسار ہیں اور کبھی خود کو اپنے ساتھیوں سے بڑا نہیں سمجھتے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو گھر ہے، نہ ہی کوئی غیر ملکی بینک اکاؤنٹ۔
سوانح عمری میں ’موجودہ حالات میں ان کی روزانہ سرگرمیاں‘ کے عنوان سے بھی ایک حصہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ سنگین حالات میں دشمن مسلسل ان پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن ان کے معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔‘
اس کے مطابق ملا عمر ’ظالم کافر غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف جہادی سرگرمیوں کا توجہ سے مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ ملک اور بیرون ملک ہونے والے واقعات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔‘
محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن گزشتہ برس نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران رپورٹ ہوا تھا
پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ اپنے بولنگ ایکشن کا دوبارہ تجزیہ کروانے کے لیے جلد بھارت کے شہر چنئی جائیں گے جہاں شری راماچندرا یونیورسٹی میں ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ پی سی بی کی درخواست پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے محمد حفیظ کے دوبارہ ٹیسٹ کروانے کے لیے نو اپریل کی تاریخ دی ہے۔
34 سالہ آف سپنر محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن گزشتہ برس نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران رپورٹ ہوا تھا جس نے پاکستان ٹیم کی عالمی کپ کی تیاریوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
محمد حفیظ نے دسمبر میں لفبرا یونیورسٹی سے اپنے بولنگ ایکشن کا بائیو میکنک تجزیہ کروایا تھا جس کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حفیظ سے قبل پاکستان کے ہی سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو بھی غیر قانونی قرار دے کر انھیں بولنگ کروانے سے روک دیا گیا تھا۔
تاہم رواں سال کے آغاز میں ہی سعید اجمل کو ان کے ایکشن کے کامیاب تجزیے کے بعد بولنگ کروانے کی اجازت مل گئی تھی جس کے بعد وہ اپریل میں پاکستان کے دورہ بنگلہ دیش کے لیے دستیاب ہیں۔
پاکستان دورہ بنگلہ دیش کے دوران دو ٹیسٹ میچز کے علاوہ تین ایک روزہ اور ایک ٹی ٹیونٹی میچ کھیلے گا۔
محمد حفیظ کو حال ہی میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں بطور بیٹسمین شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے انھیں واپس وطن بھیج دیا گیا۔
محمد حفیظ کو حال ہی میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں بطور بیٹسمین شامل کیا گیا تھا لیکن ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے انھیں واپس وطن بھیج دیا گیا
آل راؤنڈر حفیظ نے سابق پاکستانی آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات بھی حاصل کیں جس کے بعد رواں برس بھارت میں ہی ہوئے ایک غیر رسمی تجزیے کے بعد ان کے بولنگ ایکشن کو درست قرار دیا گیا تھا۔
محمد حفیظ اب تک 43 ٹیسٹ 122 ایک روزہ اور 46 ٹی ٹوئنٹی وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
پاکستان کی خواتین ٹیم کی جانب سے کھیلنے والی جویریہ ودود بھی محمد حفیظ کے ساتھ اپنے بولنگ ایکشن کے تجزیے کے لیے بھارت کے شہر چنئی جائیں گی۔
جویریہ ودوود کا بولنگ ایکشن سنہ دوہزار دس میں رپورٹ ہوا تھا۔ وہ اب تک 59 ایک روزہ اور 56 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکی ہیں۔
خیال رہے آئی سی سی نے گزشتہ سال غیر قانونی بولنگ ایکشن والے بولرز کے خلاف کریک ڈاؤن آغاز کیا تھا اور چھ مہینوں میں نو بولرز کو بولنگ کروانے سے روک دیا گیا تھا۔
ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں ‏‏عام ہوگئی تھیں کہ اداکارہ سوناکشی سنہا کی فلم ’اکیرا‘ میں تجربہ کار فنکار تبّو بھی کام کریں گی۔
یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اس فلم میں اداکارہ تبو سوناكشي سنہا کی بڑی بہن یا منٹر کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
میڈیا میں اس طرح کی بھی خبریں آئی تھیں کہ تبو اس فلم کوسائن کرنے کے بعد فلم شوٹ کرنے بھی گئیں لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھیں یہ فلم چھوڑنا پڑی۔
اس طرح کی افواہیں پھیلنے اور تبو کے اس طرح سے اچانک فلم چھوڑ دینے سے لوگ اپنے اپنے حساب سے قیاس آرائیاں کرنے لگے تھے۔ بعض نے اسے فلم سے تبوّ کو نکال دینے کا معاملہ قرار دیا تو بعض نے اس کو فلموں کی معروف ’کیٹ فائٹ‘ سے تعبیر کیا۔
لیکن تبو کے ترجمان نے ایک بیان جاری کر کے ان تمام قیاس آرائیوں کو لگام دے دی ہے۔ ترجمان نے اداکارہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’چونکہ تبو نے کبھی فلم اکیرا سائن ہی نہیں کی تھی اس لیے فلم چھوڑنے یا اس سے نکلنے کاسوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘
انھوں نے کہا کہ فلم کے پروڈیوسر نے اس کے لیے تبو سے رابطہ کیا تھا لیکن تاریخ کے حوالے سے کچھ تنازع ہونے کے سبب بات آگے نہیں بڑھ پائی تھی۔

ان کی پہلی ہندی فلم ’گجنی‘ بہت کامیاب رہی تھی جس نے پہلی بار سو کروڑ روپے کمانے کا ریکارڈ بنایا تھا۔
فلم ’اکیرا‘ کے ہدایت کار جنوبی ہند کے کامیاب ترین ڈائریکٹر اے آرموروگ داس ہیں۔ مسٹر داس نے جنوبی ہند میں کامیابی کے ساتھ ساتھ ہندی فلموں میں بھی اپنی ایک علیحدہ شناخت بنا لی ہے اور لوگ ان کی فلموں کا انتظار کرتے ہیں۔
'اکیرا' خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق سے متعلق کہانی پر مبنی فلم ہے جس میں سوناکشی سنہا کا اہم رول ہے۔
اس فلم میں سوناکشی کے والد شتروگھن سنہا بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب باپ اور بیٹی ایک ساتھ پردے پر نظر آئیں گے۔
فلم انڈسٹری میں ہیروئنوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ رہتا ہے اور اس حوالے سے اکثر ایسی مسالے دار خبریں آتی رہتی ہیں کہ کون سی اداکارہ کس کے سات کام کرنا چاہتی ہے اور کون کس سے بچنا چاہبتی ہے۔
پرویز مشرف نے لال مسجد میں فوجی آپریشن کا حکم دیا تھا
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل جج واجد علی نے جمعرات کو سماعت کے موقع پر پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو 27 اپریل تک عدالت میں پیش کیا جائے۔
اس سے پہلے عدالت نے دس مارچ کو سابق فوجی صدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور اُنھیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
جمعرات کو پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کر لیے گئے اور جج نے اُن کے قابل ضمانت وارنٹ کو ناقابل ضمانت ورانٹ میں تبدیل کر دیا۔
ملزم کے وکیل طاہر ملک نے عدالت میں اپنے موکل کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا اور اس کے ساتھ حاضری سے ایک دن کے استثنی کی درخواست بھی دی مگر عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ جب سے اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی ہے اس وقت سے 30 سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن ایک بھی سماعت کے دوران ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور کبھی سکیورٹی وجوہات کا عذر ہوتا ہے اور کبھی بیماری کے سرٹیفکیٹ پیش کر دیے جاتے ہیں۔
پرویز مشرف کے وکیل نےکہا کہ اُن کے موکل ملک کے سابق صدر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُن کا اہم کردار رہا ہے اور خفیہ اداروں کی طرف سے موجودہ حکومت کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر کی جان کو شدت پسندوں سے خطرات لاحق ہیں۔
2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے
پرویز مشرف کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں مقیم اُن کے موکل کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور بدھ کو ڈاکٹروں کی ٹیم نے اُن کا طبعی معائنہ بھی کیا ہے۔
مقدمے میں وکیلِ استغاثہ نے کہا کہ ملزم سیاست میں پوری طرح متحرک ہے اور اپنی جماعت کے اجلاسوں میں شرکت بھی کرتا ہے لیکن جب عدالت میں پیشی کا وقت آتا ہے تو بیماری کا سرٹیفکیٹ پیش کیا جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزم ملکی عدالتی نظام کو سنجیدہ نہیں لے رہا اور اگر عام آدمی ایسی جرات کرتا تو اُسے کب کا گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا جاتا۔
یاد رہے کہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2013 میں اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی تھی کہ سنہ 2007میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن سے متعلق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف اگر کوئی جُرم بنتا ہے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سکیورٹی فورسز کے جانب سے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی جو کہ قانون کی عمل دراری کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
اگلی چار دہائیوں میں کسی بھی مذہب کے مقابلہ اسلام سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھے گا
ایک نئی تحقیق کے مطابق 2050 تک بھارت انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ کر پوری دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملك بن جائے گا اور پوری دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہو جائے گی۔
واشنگٹن میں واقع پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کی تیسری سب سے بڑی آبادی ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ہو گی اور بھارت میں ہندوؤں ہی کی اکثریت رہے گی۔
اگلی چار دہائیوں میں عیسائی مذہب سب سے بڑا مذہبی گروہ بنا رہے گا لیکن کسی بھی مذہب کے مقابلہ اسلام سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھے گا۔
واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں عیسائیت سب سے بڑا مذہب ہے اس کے بعد مسلمان آتے ہیں اور تیسری سب سے بڑی آبادی ایسے لوگوں کی ہے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔
’اگلے چار عشروں میں دنیا کی آبادی 9.3 ارب تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد کا اضافہ ہو گا‘
اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2070 تک اسلام سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
اندازہ ہے کہ اگلے چار عشروں میں دنیا کی آبادی 9.3 ارب تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد کا اضافہ ہو گا، جب کہ عیسائیوں کی آبادی 35 فیصد بڑھے گی اور ہندوؤں کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ہو گا۔
اس وقت مسلمانوں میں بچے پیدا کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی اوسطاً ہر خاتون 3.1 بچوں کو جنم دے رہی ہے، عیسائیوں میں ہر خاتون اوسطاً 2.7 بچے کو جنم دے رہی ہے اور ہندوؤں میں بچے پیدا کرنے کی اوسط شرح 2.4 ہے۔
آنے والے عشروں میں عیسائی مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے اور مذہب چھوڑنے والوں کی تعداد اختیار کرنے والوں سے بڑھ جائے گی
2010 میں پوری دنیا کی 27 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر کی تھی، وہیں 34 فیصد مسلمان آبادی 15 سال سے کم کی تھی اور ہندوؤں میں یہ آبادی 30 فیصد تھی۔ اسے ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کے مقابلے زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی اور ہندوؤں اور عیسائیوں اسی رفتار سے بڑھیں گی جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی یہودیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔
رپورٹ میں بچے پیدا کرنے کی شرح کے علاوہ آباديوں میں اس الٹ پھیر کی وجہ تبدیلیِ مذہب کو بھی بتایا جا رہا ہے۔
آنے والے عشروں میں عیسائی مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے اور کہا گیا ہے کہ چار کروڑ افراد عیسائی مذہب اپنا لیں گے وہیں دس کروڑ 60 لاکھ لوگ اس مذہب کو چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ایک کروڑ 12 لاکھ لوگ اسلام کو اپنائیں گے وہیں تقریباً 92 لاکھ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔
گلابی رکشہ
خواتین رکشتہ ڈرائیور کو یہ رکشے آسان قسطوں پر فراہم کرایں جائے گیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی سڑکوں پر ایسی رکشہ سروس شروع ہوئی ہے جس میں سفر کرنے والی اور اسے چلانے والی دونوں خواتین ہوتی ہیں۔
گلابی رنگ کا یہ رکشہ خاص طور پر خواتین کے لیے بنایا گیا ہے جس میں مردوں کو سفر کرنا ممنوع ہے۔
ابتدائی طور پر لاہور میں 25 گلابی رکشہ چلائے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
خواتین کے لیے گلابی رکشہ متعارف کرانے والی زار اسلم کا کہنا ہے کہ یہ گلابی رکشہ اپنی نوعیت کا پہلا رکشہ ہے جسے صرف اور صرف خواتین ہی استعمال کریں گی۔
زارا اسلم نے بتایا کہ گلابی رکشہ چلانے کا خیال ان کو ان خواتین کو دیکھ کر آیا جن کو دفتر اور تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے تمام مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
کئی مرتبہ ان لڑکیوں کو مرد رکشہ ڈرائیور ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں عام رکشے میں اکیلے سفر کرنے گھبراتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے نئے رکشوں سے ان خواتین اور لڑکیوں کی زندگی آسان ہوگی جو اپنی ملازمت اور پڑھائی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استمعال کرتی ہیں۔
گلابی رکشہ
ان رکشوں کو خاتون ڈرائیور چلائیں گی
ملازمت کرنے والی خواتین اور تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں پانچ سے سات ہزار روپے ماہانہ کی بیناد پر رکشہ کی پک اینڈ ڈراپ سروس حاصل کرتی ہے۔
زارا اسلم کے مطابق گلابی رکشہ میں صرف خواتین اور لڑکیاں خواتین رکشہ ڈرائیوروں کو ہی ترجیح دیں گی۔
ان کے بقول اس منصوبے سے نہ صرف خواتین کو روزگار ملےگا بلکہ وہ اس کے ذریعے محفوظ سفر کر سکیں گی۔
گلابی یعنی رکشہ بنانے کے لیے ایک کمپنی سے معاہدہ کیا گيا ہے اور کمپنی ان کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے رکشے تیار کر رہی ہے۔
زارا اسلم کے بقول ان کے پنک رکشہ بالکل ایک منی کار جیسا ہے۔
گلابی رکشہ شہر میں چلنے والے دیگر رکشوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں دراوزے ہیں اور اس میں خاص طورپر خواتین کے لیے پنکھے لگوائے گئے ہیں۔
زارا اسلم نے بتایا کہ گلابی رکشوں کے لیے لاہور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں جس کے بعد ایل ٹی اے اپنی نوعیت کے اس منفرد رکشوں کو رجسٹر کر رہی ہے اور رکشہ چلانے والی خواتین کو مختلف نوعیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
گلابی
خواتین ڈرائیور کو یہ رکشے آسان قسطوں پر فراہم کرائے جائیں گے
انھوں نے مزید بتایا کہ گلابی رکشہ چلانے کی خواہش مند خواتین کو ملازمت دینے سے پہلے انٹرویو لیا جاتا ہے اور منتخب ہونے والی خواتین کو رکشہ چلانے اور اس کی مرمت کرنے کی ترتیب دی جاتی ہے جو 15 دنوں سے ایک ماہ تک محیط ہوتی ہے۔
خواتین رکشہ ڈرائیوروں کے پاس اگر ڈرائیونگ لائسنس نہیں تو انھیں لائسنس دلوائے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ خواتین ڈرائیورز کے لیے سروس کے شروع میں آسان سڑکوں کا انتخاب کیا گیا ہے اور ساتھ ہی لاہور شہر کے مختلف شاہراروں کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔
رکشہ ڈرائیور خواتین کو آسان قسطوں میں گلابی رکشہ کی قیمت ادا کرنا ہوگی تاہم اس بات کی نگرانی کی جائے گی خواتین کے بدلے ان کے گھر کے مرد تو یہ رکشہ نہیں چلا رہے۔
زارا اسلم نے بتایا کہ ہر ماہ خواتین ڈرائیور سے ملاقات کی جائے گی تاکہ ان سے ان کے تجربہ پر تبادلہ خیال کیا جائےاور ان کو پیش آنے والی مشکلات کا حل نکلا جا سکے۔