Latest News


Urwa hoccan live performance in ary digital show watch and enjoy.

VJ Urwa Perfomance - ARY Film Awards. by news fews
Kareena Kapoor and Sonakshi Sinha might have posed together with a broad smile at the Star Guild Awards 2014 red carpet but their equations are not so good behind the curtains as Sonakshi Sinha's reaction on Kareena Kapoor's rude comments on Koffee With Karan Season 4 was like a one tight slap on Kareena's face.


OMG! Sonakshi Sinha Slaps Kareena Kapoor 
زمبابوے کی ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا
پاکستان میں چھ برس کے طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے سلسلے میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم دو ہفتے کے دورے پر لاہور پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
زمبابوے کی ٹیم کے کھلاڑی پیر کو رات گئے دبئی کے راستے لاہور پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے کرکٹ بورڈ اور پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔
مہمان ٹیم کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت صدارتی سکیورٹی میں ہوائی اڈے سے ہوٹل پہنچایا گیا ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق غیر ملکی ٹیم کی آمد کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سبحان احمد کا کہنا تھا کہ زمبابوے کی ٹیم کی پاکستان آمد خوش کن ہے اور وہ زمبابوے کی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ یہ دورہ ممکن ہوا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ زمبابوے کا دورہ دیگر انٹرنیشنل ٹیموں کو بھی پاکستان لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی کسی کرکٹ ٹیم کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد جہاں سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی وہیں دیگر ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔
چھ سال کے اس عرصے کے دوران پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز غیرملکی سرزمین پر کھیلنی پڑی تھیں۔

شاہد آفریدی کپتان

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کی قیادت شاہد آفریدی کریں گے۔
شیعب ملک، محمد سمیع اور عمر اکمل کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں سرفراز احمد، عماد وسیم، وہاب ریاض، مختار احمد، احمد شہزاد، محمد رضوان، نعمان انور، بلاول بھٹی، انور علی، محمد حفیظ اور عماد اعظم شامل ہیں۔
خیال رہے کہ زمبابوے کی ٹیم اپنے اِس حالیہ دورے میں دو ٹی 20 اور تین ایک روزہ میچ کھیلے گی۔
دورے کا آغاز 22 مئی کو ٹی 20 میچ سے ہوگا اور دوسرا ٹی 20 میچ 24 مئی کو کھیلا جائے گا جس کے بعد 26، 29 اور 31 مئی کو تین ون ڈے میچ منعقد ہوں گے۔
یہ تمام میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اگرچہ اس سیریز کو باقاعدہ سرکاری حیثیت دی ہے لیکن سکیورٹی کی صورتحال کو بنیاد پر بنا کر اپنے آفیشلز نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورے کے تناظر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور چھ ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عدیل اکرم نے بتایا کہ قذافی سٹیڈیم اور اس کےگردو نواح میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مسلسل گشت کیا جا رہا ہے جبکہ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔
کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی حکومت کی جانب سے فوری اِنخلا کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے اور اِس مقصد کے لیے ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی ریہرسل بھی کی گئی ہے۔
پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں
لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کے آس پاس 100 سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جہاں سے 24 گھنٹے صورتحال کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین صرف دو دروازوں سے ہی سٹیڈیم کے اندر داخل ہو سکیں گے، جبکہ گاڑیوں کی پارکنگ کو بھی سٹیڈیم سے دور رکھا گیا ہے جہاں سے شائقین کو پیدل چل کر سٹیڈیم میں داخل ہونا ہوگا۔
لاہور میں پولیس اور رینجرز کے دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں اور سٹیڈیم کے آس پاس تمام کاروباری مراکز اور ریستورانوں کو دو ہفتوں کےلیے بند کر دیاگیا ہے۔
سنیچر اور اتوار کے دن بھی پولیس کی ٹیموں نے فل ڈریس ریہرسل کی تھی جس میں ائیر پورٹ سے نجی ہوٹل اور پھر قذافی سٹیڈیم تک سفر کر کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔


واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت اور پورے ملک پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے جس کے بعد اب سقوط دمشق نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے۔امریکی اخبار نے شام کی موجودہ زمینی حالات کا ایک جامع تجزیہ پیش کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ محاذ جنگ پر صدر بشارالاسد کے وفاداروں کو باغیوں کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کا سامنا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ حالیہ چند ماہ میں باغیوں نے پیش رفت کی ہے پچھلے چار سال میں کبھی نہیں کی۔ بشارالاسد کی حامی فوجیں باغیوں سے علاقے واپس لینے میں اب بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔رپورٹ میں ادلب گورنری کے علاقے جسرالشغور میں باغیوں کے حالیہ قبضے کو شامی حکومت کی گرفت کی کمزوری کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ اور دوسرے باغی گروپوں نے ادلب شہر اور جسرالشغور کے بیشتر علاقوں پر چند ہفتوں کی لڑائی میں ڈرامائی انداز میں قبضہ کر کے اسدی فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے ک;ادلب کے مرکز اور جسرالشغور پر شامی باغیوں کے قبضے کے بعد حمص اور حماہ جیسے شہروں کی طرف باغیوں کی فاتحانہ پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں اسد رجیم کی گرفت کمزور ہونے کے باوجود سقوط دمشق اتنا جلدی ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ صدر بشارالاسد نے دمشق کو ایک مضبوط قلعہ بنا رکھا ہے جس کی فصیلوں کو توڑنا اتنا آسان نہیں ہے۔ نیز دمشق، باغیوں کا فوری ہدف بھی نہیں۔ انقلابی تنظیموں کے بیشتر مفادات دمشق کے آس پاس کے علاقوں میں ہیں جہاں سے وہ دمشق کی سپلائی لائن کو منقطع کر سکتے ہیں۔انٹرنیشنل اسٹریٹیجک ریسرچ انسٹییٹوٹ سے وابستہ تجزیہ نگار ایمیلی ھوکائم کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اب وہ زیادہ عرصے تک اقتدار پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے پاس چند ہزار فوجیوں اور کچھ اسلحہ کے ذخائر کے سوا اور کچھ نہیں بچا ہے۔ جنگ میں بشارالاسد غیرمعمولی اور ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں اور اب وہ اپنا نقصان چھپا بھی نہیں سکتے ہیں۔مسز کائم کا کہنا تھا کہ ادلب میں اپوزیشن فورسز کے قبضے کے بعد شام کے جنوبی شہروں بالخصوص حماہ اور حمص میں باغیوں کی پیش رفت کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ اب وہ بشارالاسد کی فوج کے مرکز الاذقیہ پر بھی دستک دینے لگے ہیں۔ جنوب کی سمت سے درعا شہر بھی اب خطرے میں ہے۔ درعا گورنری پر باغیوں کا قبضہ دمشق پر قبضے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق شامی فوج کو رواں سال کے دوران باغیوں کے ہاتھوں بدترین جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی افرادی قوت کم اور باغیوں کی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ادھر صدر بشارالاسد کے خاندان کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات نے بھی ان کی حکومت کے مستقبل پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ حال ہی میں شامی حکومت کے ایک دست راست رستم غزالی کی پراسرار ہلاکت نے اسد خاندان میں اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل صدر کے خالد زاد حافظ مخلوف کی دمشق سیکیورٹی کمانڈ کے چیف کےعہدے سے برطرفی، ان کے شام سے فرار اور صدر کے چچا زاد منذرالاسد کو بغاوت کے الزام میں جیل میں ڈالے جانے سے اسد خاندان میں اختلافات میں غیر معمولی حد تک اضافہ کردیا تھا۔ امریکی اخبار نے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بشارالاسد کے خاندان میں اس وقت بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہوچکی ہے۔ اگر فوج کی بڑی تعداد صدر اسد کا ساتھ چھوڑی دیتی ہے جس کا امکان بھی موجود ہے تو وہ اپنا اقتدار بچانے میں ناکام ہوجائیں گے۔ ادھر دوسری جانب ایران اب بھی صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے اب بھی دمشق کی مالی اور عسکری مدد کر رہا ہے۔ دمشق پرعائد عالمی اقتصادی پابندیوں میں اگر کسی نے اب تک بشارالاسد کو سقوط سے بچائے رکھا ہے تو وہ ایران ہے جس کا پیسہ اور اسلحہ اب تک ان کے کام آ رہا ہے۔شام میں سابق امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ خارج از امکان نہیں کیونکہ فوج میں پھوٹ، محاذ جنگ میں مسلسل شکست اور اقتصادی بحران وہ بنیادی اسباب ہیں جو بشارالاسد کا دھڑن تختہ کرسکتے ہیں۔ سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے زوال کی علامات اب ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں معطل کر دی ہیں۔
عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ایک متفرق درخواست پر دیا۔
اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں فوجی عدالتوں کی طرف سے سات ملزمان کو دی جانے والی سزا پر عمل درآمد کو اس وقت تک روک دیا جائے جب تک ان عدالتوں کے خلاف دائرشدہ درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
فوجی عدالتوں نے رواں ماہ کے آغاز میں چھ افراد کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے جمعرات کو 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔
سماعت کے موقعے پر درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی طرف سے بنایا گیا کوئی بھی قانون اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا پانے والوں کے پاس اپیل کا حق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے سوال کیا کہ حکومت کو ان سزاؤں پر عمل درآمد کی کیا جلدی ہے اور کیوں نہ انھیں کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا جائے۔
جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کو آرمی ایکٹ کے شق 133 بی کے تحت اپیل کا حق حاصل ہے جسے وہ استعمال کر سکتے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک نے کہا کہ ان افراد کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں اور انھیں سزا ملنے کی خبر بھی میڈیا کے ذریعے معلوم ہوئی۔
فوجی عدالتیں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی تھیں
ان کا کہنا تھا ایسی صورت حال میں یہ یقین کیسے ہو کہ ان کے خلاف مقدموں کی کارروائی منصفانہ تھی اور یہ کہ ان کی اپیل پر بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی یا نہیں۔
جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ جو کارروائی ہوئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ماضی میں بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک دو افراد کو پھانسی دی جا چکی تھی۔
انھوں نے استفسار کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلے کہ اپیل خارج ہونے کے بعد پھانسی دی جا رہی ہے۔
سماعت کے بعد عدالت نے فوجی عدالت سے سزا پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ آنے تک یہ سزا معطل رہے گی۔
عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 22 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد شدت پسندی کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ میں 21ویں ترمیم کے تحت دو سال کے لیے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔
اس ضمن میں پارلیمنٹ سے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کروائی گئی تھی۔
اس کے بعد فوجی عدالت نے رواں ماہ کے آغاز میں شدت پسندی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چھ مجرموں کو موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
فوج کی جانب سے نہ تو ان مقدموں کی تفصیل کے بارے میں کچھ بتایا گیا اور نہ ہی یہ بات سامنے آئی کہ ان فوجی عدالتوں نے ان مقدمات کی سماعت کہاں پر کی ہے۔
میڈیا کو بھی ان مقدمات کوریج کی اجازت نہیں ہے۔