فرانس کے محکمۂ ہوابازی کے حکام اور پولیس کے مطابق ایک مسافر برادر طیارہ ملک کے جنوب میں پہاڑی سلسلے ’فرینچ ایلپس‘ میں گر کر تباہ ہو گیا۔
یہ طیارہ ایئر بس320 قسم کا تھا اور اس پر 142 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ طیارہ جرمنی کی سستی ہوائی کمپنی ’جرمن ونگز‘ کا تھا جو جرمنی کی قومی ایئر لائن ’لفتھانزا‘ کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔
طیارہ ساز کپمنی ’ایئر بس‘ اور فضائی کمپنی جرمن وِنگز دونوں کا کہنا ہے کہ انھیں اس حادثے کی اطلاع مل چکی ہے تاہم وہ ابھی اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
جرمن وِنگز کی یہ پرواز سپین کے شہر بارلسونا سے جرمنی کے شہر ڈوزلڈورف جا رہی تھی۔
فرانس کے صدر فرانکوس اولاند کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ابھی یہ پوری طرح واضح نہیں کہ حادثہ کن حالات میں ہوا لیکن لگتا یہی ہے کہ اس حادثے میں کوئی زندہ نہیں بچا ہے۔¬
طیارہ کے حادثے کو ایک المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے صدر اولاند نے مزید کہنا ہے جس علاقے میں حادثہ پیش آیا ہے وہاں تک رسائی بہت مشکل ہے۔
صدر اولاند کے مطابق وہ جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے بیان کے بعد اس حادثے پر مزید بات کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حادثے سے پہلے انھیں 10 بجکر 47 منٹ پر پیغام موصول ہوا تھا کہ طیارہ مشکل کا شکار ہے۔
لُفتھانزا کے سربراہ کاسٹن سپہورٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ : ہمیں معلوم نہیں کہ پرواز نمبر 4U 9525 کے ساتھ کیا ہُوا۔ میں اپنے مسافروں اور عملے کے گھر والوں اور دوستوں سے دل کی گہرائیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔‘
’اگر ہمارے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ لفتھانزا کی تاریخ کا ایک تاریک دن ہوگا۔‘
0 comments:
Post a Comment