ڈومینی کی ہیٹ ٹرک، سری لنکا شدید مشکل میں

ڈومینی نے آٹھویں اوور کی آخری اور نویں اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر وکٹیں لے کر ہیٹ ٹرک کی
11ویں کرکٹ ورلڈ کپ کا پہلا کوارٹر فائنل میچ سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلا جا رہا ہے۔
سڈنی میں بدھ کو کھیلے جانے والے میچ میں اس وقت کھیل بارش کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔
جب کھیل روکا گیا تو کریز پر چمیرا اور ملنگا موجود تھے اور سری لنکا نے 37 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنا لیے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں لگاتار چار سنچریاں بنانے والے کمارا سنگاکارا نے اس میچ میں انتہائی سست روی سے بلے بازی کی اور 95 گیندوں میں 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
سری لنکن کپتان اینجلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکا نے کشال پریرا کو بطور اوپنر آزمایا مگر وہ دوسرے ہی اوور میں کائل ایبٹ کی گیند پر وکٹ کیپر ڈی کاک کو کیچ دے بیٹھے۔
آؤٹ ہونے والے دوسرے بلے باز تلکارتنے دلشان تھے جو کوئی رن نہ بنا سکے اور سٹین نے اپنے تیسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر انھیں سلپ میں کیچ کروا دیا۔
عمران طاہر نے اس میچ میں تین اہم وکٹیں لی ہیں
تیسری وکٹ کے لیے سنگاکارا اور تھریمانے نے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے 15 اوورز میں 65 رنز کی شراکت قائم کی جسے عمران طاہر نے تھریمانے کو اپنی ہی گیند پر کیچ کر کے توڑا۔
عمران نے ہی مہیلا جیاوردھنے کو اپنے پانچویں اوور میں آؤٹ کیا جو چار رنز ہی بنا سکے۔ چوتھے اوور میں انھوں نے جیاوردھنے کو ہی آؤٹ نہ دیے جانے پر امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو لیا تھا مگر نتیجہ ان کے حق میں نہ آیا۔
جنوبی افریقہ کو پانچویں کامیابی جے پی ڈومینی نے سری لنکن کپتان میتھیوز کو آؤٹ کر کے دلوائی جبکہ تھشارا پریرا عمران طاہر کا تیسرا شکار بنے۔
ڈومینی نے جب نوان کولاسیکرا کو اپنے نویں اوور میں کیچ کروایا تو سری لنکن ٹیم ساتویں وکٹ سے محروم ہوئی۔ اگلی ہی گیند پر انھوں نے اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلنے والے تھرندو کوشل کو آؤٹ کر کے نہ صرف تیسری وکٹ لی بلکہ ہیٹ ٹرک بھی مکمل کی۔
سری لنکا کے ٹاپ آرڈر کے بلے باز عمدہ فارم میں ہیں مگر اس میچ میں قابلِ ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے
انھوں نے یہ کارنامہ آٹھویں اوور کی آخری اور نویں اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر وکٹیں لے کر سرانجام دیا۔
اس میچ کے لیے سری لنکن ٹیم نے نوآموز نوجوان سپنر تھرندو کوشل کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوشل کو ان کے بولنگ کے مخصوص انداز کی وجہ سے ’مرلی کی نقل‘ کہا جاتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے بھی آخری پول میچ کھیلنے والی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور جہاں فرحان بہاردین کی جگہ فاف ڈوپلیسی کی واپسی ہوئی ہے وہیں کائل ایبٹ بھی یہ میچ کھیل رہے ہیں۔
ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پول بی میں دوسرے اور سری لنکن ٹیم پول اے میں تیسرے نمبر پر رہی تھی۔