شام میں سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے شمالی مغربی علاقے میں ایک امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے۔
فوج کے مطابق اس جاسوس طیارے کو صدر بشار الاسد کے حامیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے لطاقیہ نامی شہر کے اوپر نشانہ بنایا گیا۔
امریکی محکمۂ دفاع نے اپنے ایک ڈرون طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اسے گرایا گیا ہے۔
اگر شامی فوج کے اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحادیوں کی کارروائی کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ شام نے کسی امریکی طیارے پر حملہ کیا ہے۔
شام دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری کارروائی میں اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔
ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نیوز نے ڈرون طیارے کو ’دشمن طیارہ‘ قرار دیا ہے تاہم اس بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔
امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ایم کیو 1 ڈرون طیارے سے شمال مغربی شام کی فضا میں رابطہ منقطع ہوا۔
گذشتہ ماہ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ شامی جنگجوؤں کو تیسرے فریق کے ذریعے اتحادیوں کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں کے بارے میں ’پیغام پہنچا دیا گیا تھا‘۔
0 comments:
Post a Comment