214 رنز کا ہدف، آسٹریلیا کی تین وکٹیں گر گئیں

ڈیوڈ وارنر ایک بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے
کرکٹ کے 11ویں ورلڈ کپ مقابلوں کے تیسرے کوارٹر فائنل میچ میں 214 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی اننگز جاری ہے۔
اس وقت کریز پر شین واٹسن اور سٹیون سمتھ موجود ہیں اور آسٹریلیا نے 16 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 84 رنز بنا لیے ہیں۔
آسٹریلیا کے آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز ایرن فنچ تھے جنھیں سہیل خان نے دو رن کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو کیا۔ انھوں نے امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو بھی لیا لیکن بچ نہ سکے۔
دوسری وکٹ کے لیے وارنر نے سمتھ کے ساتھ مل کر 34 رنز بنائے تاہم جب آسٹریلیا کا سکور 49 پر پہنچا تو وہاب نے وارنر کو آؤٹ کر کے پاکستان کو دوسری کامیابی دلوائی۔
وہاب نے ہی مائیکل کلارک کو آؤٹ کیا۔ وہاب کو ان کے پانچویں اوور میں تیسری وکٹ بھی مل ہی جاتی مگر راحت علی سمتھ کا آسان کیچ پکڑنے میں ناکام رہے۔
ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر نہ چل سکی اور پوری ٹیم 50ویں اوور میں 213 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانی بلے باز ایک مرتبہ پھر اچھے آغاز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں ناکام نظر آئے۔
گذشتہ دو میچوں میں پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سرفراز احمد اس بار دس رنز ہی بنا سکے۔
حارث سہیل نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی لیکن بڑا سکور نہ کر سکے
حارث سہیل پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکورر رہے جنھوں نے 41 رنز بنائے۔ انھوں نے ابتدائی نقصان کے بعد مصباح الحق کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ لیے 73 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔
مصباح الحق نے 34، صہیب مقصود نے 29، شاہد آفریدی نے 15 گیندوں پر 23 اور عمر اکمل نے 20 رنز کی اننگز کھیلیں تاہم جب ٹیم کو وکٹ پر ان کی ضرورت تھی، تبھی یہ سب غیر ضروری شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔
آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا پیٹ کمنز کی جگہ جوش ہیزل وڈ کو کھلانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور ہیزل وڈ چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔
ان کے علاوہ مچل سٹارک نے دو وکٹیں لیں اور اس ورلڈ کپ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 18 کر لی اور ایک بار پھر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے۔
سٹارک کے علاوہ گلین میکسویل نے بھی دو وکٹیں لیں جبکہ مچل جانسن اور جیمز فاکنر نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میں بھارت کا سامنا کرے گی۔
جوش ہیزل وڈ نے چار وکٹیں لے کر اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا
کوارٹر فائنل سے پہلے پول مقابلوں میں آسٹریلیا پول اے میں دوسرے نمبر پر رہا تھا۔ اس نے اپنے پول میں چھ میں سے چار میچ جیتے اور وہ صرف نیوزی لینڈ سے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے ہارا تھا۔
دوسری طرف پاکستان نے جہاں ابتدائی دو میچوں میں بھارت اور ویسٹ انڈیز سے شکست کھائی وہیں یہ ٹیم اس کے بعد سے لگاتار چار میچ جیت کر کوارٹر فائنل میں پہنچی ہے۔
آسٹریلیا ماضی میں چار مرتبہ جبکہ پاکستان ایک بار یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب رہا ہے اور پاکستان کی واحد فتح 1992 میں تھی اور اس وقت بھی ٹورنامنٹ کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہی کر رہے تھے۔
ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان اور آسٹریلیا ماضی میں آٹھ بار مدِمقابل آ چکے ہیں جن میں سے دونوں نے چار چار میچ جیتے ہیں۔
تاہم پاکستان سنہ 2005 کے بعد سے آسٹریلیا کے خلاف اس کی سرزمین پر کوئی میچ نہیں جیت پایا ہے۔