موجودہ مسائل ماضی کی فوجی حکومتوں کی وجہ سے ہیں

دیکھنا ہوگا کہ ملک میں دہشت گردی کیوں شروع ہوئی، نوازشریف
وزیر اعظم نواز شریف نے بعض حلقوں کی جانب سے جمہوری سیاسی ادوار پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تنزلی، دہشت گردی، انتہا پسندی اور توانائی کے بحران جیسے مسائل ماضی کی فوجی حکومتوں کی وجہ سے ہیں۔
سنیچر کو سیالکوٹ چیمپرآف کامرس اینڈ انڈ سٹری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کبھی ہم نہ یہ بھی جائزہ لیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے چلے گئے۔
’یہ جو عوام کو آ کر باتیں بتاتے ہیں کہ سیاست دانوں نے کچھ نہیں کیا، فلاں سیاسی دور میں کچھ نہیں ہوا، تو جب کوئی ڈکٹیٹر آیا، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر آیا تو اس نے اپنے دور میں کیا کیا، انھوں نے پاکستان کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘
وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے حوالہ دیتے ہوئے کہا :’کہاں ہے مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا جس کا انھوں نے اعلان کیا تھا۔ اس پاکستان کو بھی سوچیں کہ جب موٹر ویز شروع ہوئیں، یہ سب مارشل لا کے دور میں شروع نہیں ہوا، پاکستان جوہری طاقت بنا تو وہ بھی سیاسی اور جمہوری دور تھا، خوشحالی آ رہی تھی، بجلی اور نہ ہی گیس کی قلت تھی، نہ ملک میں دہشت گردی تھی اور نہ ہی انتہا پسندی تھی، آپ اس دور کو بھی کبھی سوچیں کہ اگر وہ سلسلہ چلتا رہتا تو پاکستان آج کہاں ہوتا، یہ چیزیں سوچنے والی ہیں، پھر آئے روز نت نئے قسم کا خاکہ پیش کرنے والوں نے سوائے دھوکے کے اس قوم کو کچھ نہیں دیا۔‘
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کسی جماعت کے نہیں بلکہ مجرموں کے خلاف ہے۔
سنیچر کو سیالکوٹ چیمپرآف کامرس اینڈ انڈ سٹری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے بہت اچھے نتائج نکلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ’ہم کسی جماعت کے خلاف ایکشن نہیں کر رہے، ہم مجرموں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور یہ جاری رہے گی۔‘
میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی میں امن قائم کرے اور بندوق لے کر چلنے کے کلچر کو ختم کیا جائے۔
’ہم کسی جماعت کے خلاف ایکشن نہیں کر رہے، ہم مجرموں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور یہ جاری رہے گی‘
انھوں نے بتایا کہ کراچی میں قتل ٹارگٹ کلنگ اور اِغوا برائے تاوان کی ورداتوں میں کمی آئی ہے تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے کراچی آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ:’ضرب عضب نےدہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ میں اپنے فوجی بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ مک میں دہشت گردی کیوں شروع ہوئی۔
وزیراعظم نے ملک کے معاشی مسائل اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کیااور وہاں موجود افراد سے رائے بھی لی۔
ُادھر کور کمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل نوید مختار نے کہا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر سے جگہ دہشت گردی کو جلد انجام تک پہنچایا جائےگا۔
جمعے کی شب رینجرز کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ ’ کراچی کے اندر بھی امن کی صورتحال کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کوشش اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گی۔‘
یاد رہے کہ 11 مارچ کی صبح چار گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں رینجرز اہلکاروں نے عزیز آباد میں واقع سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو اور خورشید بیگم میموریل ہال اور اطراف سے بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی اور سزا یافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔